یورینیم کی افزودگی کا ایرانی اقدام ’انتہائی خطرناک‘ ہے، اسرائیلی وزیراعظم

Iran Atomprogramm

Iran Atomprogramm

اسرائیل (جیوڈیسک) ایران نے یورپ پر دباؤ بڑھانے کے لیے کم افزودہ یورینیم کی مقدار میں اضافہ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ دوسری جانب فرانس اور اسرائیل نے اس ایرانی اعلان کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’خطرناک اقدام‘ قرار دیا ہے۔

ایران کی کوشش ہے کہ یورینیم کی افزودگی بڑھا کر یورپ پر دباؤ میں اضافہ کیا جائے، تاکہ وہ امریکی پابندیوں کے خلاف ایران کی مدد کرے۔ تاہم ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کا اتوار کو کہنا تھا کہ اگر عالمی جوہری معاہدے میں شریک یورپی ممالک اپنی ذمہ داریاں پوری کرتے ہیں تو ایران اپنا یہ فیصلہ واپس لے لے گا۔

عالمی طاقتوں کے ساتھ طے شدہ معاہدے کے تحت ایران کو اب تک اپنے ہاں تین سو کلوگرام تک افزودہ یورینیم کی پیداوار کی اجازت ہے۔ لیکن اب ایران کا کہنا ہے کہ وہ جس قدر چاہے گا اس کی پیداوار میں اضافہ کرے گا۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے ایران کی جانب سے یورینیم کی افزودگی میں تیزی لانے کو ‘انتہائی خطرناک‘ قرار دیا ہے۔ اتوار کے روز انہوں نے فرانس، جرمنی اور برطانیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ ایران کو اس اقدام سے روکیں۔ نیتن یاہو نے کہا کہ جرمنی، برطانیہ اور فرانس ہی اس ڈیل میں ایران کے لیے افزودہ یورینیم کی حد مقرر کرنے والوں میں شامل تھے۔ واضح رہے کہ امریکا اس ڈیل سے پہلے ہی نکل چکا ہے اور اس کی طرف سے ایران کے خلاف سخت ترین پابندیاں نافذ کی جا چکی ہیں۔

دریں اثناء فرانس نے بھی اس ایرانی اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کو ادائیگیاں ممکن بنانے کے لیے بنایا گیا نظام فوری طور پر منجمد کیا جا رہا ہے۔ فرانس کے صدارتی دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق اجازت سے زیادہ یورنیم کی افزودگی عالمی معاہدے کی خلاف ورزی ہے اور اسے برداشت نہیں کیا جا سکتا۔

گزشتہ روز فرانسیسی صدر ایمانویل ماکروں نے اپنے ایرانی ہم منصب حسن روحانی سے ٹیلی فون پر بات چیت بھی کی تھی۔ ہفتے کے روز اس بات چیت میں پندرہ جولائی تک ایران اور مغربی طاقتوں کے درمیان مذاکرات کا آغاز ممکن بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا تھا۔

فرانس کے علاوہ جرمنی اور برطانیہ نے بھی اس نئے ایرانی فیصلے پر ‘شدید تشویش‘ کا اظہار کیا ہے۔