معروف شاعر خالد سجاد احمد کی جانب سے معروف شاعر شوکت فہمی اور وجے تیواری کے اعزاز میں محفلِ مشاعرہ

Mehfil Mushaira

Mehfil Mushaira

کویت (محمد عرفان شفیق) وطن سے دور کسی بھی ملک میں سکونت اختیار کرنا بذات خود کسی دشت میں مقیم ہونے کے مترادف ہے اور بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اپنی سرسبز طبیعت اور کردار کے بل بوتے پر دشت میں بھی شجر کاری یا دشت کو گلزار بنانے کی جستجو میں مصروفِ عمل رہتے ہیں۔ کویت میں مقیم نامور شاعر خالد سجاد احمد کی شخصیت ایسے ہی شجرِ سایہ دار کی سی ہے کہ جس کا سایہ مذہب و قومیت کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ہر کسی کو یساوی چھاؤں فراہم کرتا ہے۔ اردو ادب کے حوالے سے جب بھی کویت کی تاریخ لکھی جائے گی تو خالد سجاد احمد اور اُن کے دولت کدے کو ہمیشہ سنہری حروف سے لکھا جائے۔ خالد سجاد احمد کا دولت کدہ گزشتہ کئی برسوں سے نہ صرف کویت میں مقیم پاک و ہند کے شعرا کرام کے ساتھ شعری نشستوں کا محور بنا ہوا ہے بلکہ دیگر ممالک سے تشریف لانے والے نامور شعرا کرام کے اعزاز میں محافل کے انعقاد کے سلسلے میں محبتوں کا مسکن بنا ہوا ہے۔ گزشتہ دنوں کویت میں مقیم پاکستان کے نامور شاعر خالد سجاد احمد کی رہائش گاہ پر پاکستان اور انڈیا سے تشریف لائے ہوئے معروف شاعر شوکت فہمی اور وجے تیواری کے اعزاز میں محفلِ مشاعرہ کا اہتمام کیا گیا، جس کی صدارت کویت کے سینئر شاعر عیسی بلوچ نے کی جبکہ ڈاکٹر عامر قدوائی محفل کے مہمانِ خصوصی تھے۔ مسعود حساس نے نظامت کے فرائض سر انجام دیے۔ مہمان شعرا کرام کے علاوہ کویت میں مقیم پاک و ہند کے نمائندہ شعرا کرام نے بھی شرکت کی، جن میں ظہیر مشتاق رانا، سعید نظر کڑپوی،عماد بخاری، مسعود حساس، سید صداقت علی ترمذی، صابر عمر،نسیم زاہد، ابراہیم قاصد اور یاسین سامی کے نام قابلِ ذکر ہیں۔ شعرا کرام کے علاوہ کویت میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کی معروف شخصیات نے بھی شرکت کی جن میں انجینئر اشرف ضیائ، لیاقت علی بٹ،محمد ریاض انجم، فاروق گھمن، ندیم مغل، خلیل احمد، محمد اعجاز ورک، محمد اشفاق ورک اور آفتاب جٹ کے نام شامل ہیں.۔آخر میں خالد سجاد احمد کی جانب سے مہمانوں کے لئے پُر تکلف عشائیے کا بھی اہتمام کیا گیا۔
شعرا کرام کا نمونہ کلام احباب کی نذر
خیال و خواب کی کچھ بستیاں بساتے ہوئے
میں چل رہا ہوں نئے راستے بناتے ہوئے
تو جان لینا میں آنسو چھپا رہا ہوں گا
اگر پلٹ کے نہ دیکھوں یہاں سے جاتے ہوئے
شوکت فہمی
……………………………………..
پرانی ہو گئی ضد چھوڑ دو نا
دلوں کے تار پھر سے جوڑ دو نا
بہت دن سے تمہیں دیکھا نہیں ہے
مری آنکھوں کا روزہ توڑ دو نا
وجے تیواری
…………………………………………
تیری دنیا میں تعزیریں ہیں بہت
نکتہ چیں میری تحریریں ہیں بہت
میرے سر کو ہے سر تابی پہ یقیں
تجھ کو دعوی ہے شمشیریں ہیں بہت
عیسی بلوچ
…………………………….
آئینہ دکھایا تھا دنیا کو محبت کا
اب شرم سی آتی ہے تصویر دکھانے میں
نفرت کی ہوا دے کر تم پل میں اجاڑ آئے
اک عمر مری گزری جس گھر کو بسانے میں
ڈاکٹر عامر قدوائی
…………………………
مر گئے ہم کسی آزار سے جاتے جاتے
دن ڈھلا تھا تیری دیوار سے جاتے جاتے
داستاں ختم ہی ہونے کو نہیں آتی ہے
حال کیا پوچھ لیا یار سے جاتے جاتے
خالد سجاد احمد
………………………
ہمیں تو حکمِ محبت تھا ہم نے کرنی تھی
ہمارے ساتھ مروت میں تم بھی مارے گئے
راتوں کی خاک چھاننے والوں سے تجھ کو کیا
تیرے تو پورے ہو گئے بیٹھے بٹھائے خواب
ظہیر مشتاق رانا
………………………………
میری تو بس لمس کی محبت ہے
سوچتا ہوں یہی محبت ہے
ہو گیا ہوں میں اس طرح پاگل
جیسے تو آخری محبت ہے
عماد بخاری
……………………………………..
ہر کوئی ایسا کہاں جس کو بٹھائیں دل میں
ہر کوئی گھر کا نگہبان نہیں ہوسکتا
ہر کوئی صاحبِ مجموعہ ہو ممکن ہے مگر
ہر کوئی صاحبِ دیوان نہیں ہوسکتا
مسعود حساس
……………………………………………..
ہر کوئی عشق میں اندھا ہو یہ ممکن ہے مگر
ہر کوئی عشق میں یعقوب نہیں ہو سکتا
اُس طرف ہاتھ چھڑاتا ہے کوئی ہاتھ سے اور
اِس طرف آنکھ سے سب خواب بچھڑ جاتے ہیں
سید صداقت علی ترمذی
……………………………………..
کب خدا کس کو بناتی ہے خدا ہی جانے
سر کہاں خلق جھکاتی ہے خدا ہی جانے
کون سامانِ سفر باندھ کے بیٹھا ہے یہاں
کب قضا کس کو بلاتی ہے خدا ہی جانے
صابر عمر
………………………………………
جس طرح سیل بلاخیز میں بستی بہہ جائے
اس طرح اس کی امیدوں کا نگر ختم ہوا
نسیم زاہد
………………………..
عجب سی وہ حماقت کر رہے ہیں
محبت میں سیاست کر رہے ہیں
کھڑے ہیں ساتھ لیکن لب سِلے ہیں
سلیقے سے بغاوت کر رہے ہیں
ابراھیم قاصد
………………………..
دیکھتے ہی دیکھتے عاری ہوئی
الفتوں سے، شفقتوں سے زندگی
خاص اپنی رحمتوں سے پاک کر
یا الہٰی! زحمتوں سے زندگی
یاسین سامی