امت مسلمہ کے اندر اتحاد و اتفاق اور اجتماعیت قائم ہو کر اس کا کھویا ہوا وقار بھی واپس آ سکتا ہے۔ مولانا محمد صدیق مدنی

  Mohammad Siddiq Madani

Mohammad Siddiq Madani

چمن : جمعیت علماء اسلام پاکستان کے مرکزی ڈپٹی جنرل سیکرٹری مولانا محمدحنیف سے جمعیت علماء اسلام ضلع قلعہ عبداللہ کے رہنماء مولانا محمدصدیق مدنی نے ایک وفد کے ہمراہ مل کر عید کی مبارکباد دی۔ خادم جمعیت مولانا محمدحنیف نے وفد سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ قوموں کے عروج و زوال،اقبال مندی و سربلندی،ترقی و تنزلی،خوش حالی و فارغ البالی اور بد حالی کے تقدم وتخلف میں اتحاد و اتفاق،باہمی اخوت و ہمدردی اور آپسی اختلاف و انتشار اور تفرقہ بازی اور باہمی نفرت و عداوت کلیدی رول ادا کرتے ہیں،چنانچہ اقوام و ملل کی تاریخ کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ ان کے اندر جب تک اتحاد و اتفاق پایا جاتا رہا تب تک وہ فتح ونصرت اور کامیابی و کامرانی سے ہمکنار ہوتے رہے اور جیوں ہی انہوں نے اتحاد و اتفاق کے دامن کو چھوڑ کر اختلاف و انتشار پھیلانا شروع کیا تو ان کو سخت ترین ہزیمت و شکست اور ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا نیز ساتھ ہی ساتھ اتحاد و اتفاق اور اجمتاعیت کے فقدان کی وجہ سے ان قوموں کا نام صفحہ ہستی سے حرف غلط کی طرح مٹا دیا گیا۔

انہوں نے مزیدکہا کہ کسی بھی قوم وملت کے وجود کو برقرار رکھنے کیلئے سب سے ضروری اور اہم چیزان کی صفوں میں اتحاد و اتفاق کا پایا جانا ہے،اتحاد ایک زبردست طاقت و قوت اور ایسا ہتھیار ہے کہ اگر تمام مسلمان متحد ومتفق ہو جائیں تو کوئی دوسری قوم مسلمانوں سے مقابلہ تودورکی بات آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھ سکتی۔آنحضرتۖ،خلفائے راشدین اور صحابہ کرام کے عہد کی تاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ جس کام کو بڑی بڑی قومیں اپنی طاقت کے بل بوتے پر نہیں کر سکیں اس کو مسلمانوں نے باہمی اتحاد و اقفاق،اخوت و ہمدردی،آپسی بھائی چارگی اور اجتماعیت سے کر دکھایا۔
مولانا محمدصدیق مدنی نے مزیدکہا کہ آج عالم اسلام کی نازک صورتحال اور خود پاکستانی مسلمانوں کی حالت زار اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ تمام مسلمان خصوصاً وارثین انبیاء اتحاد اور اجتماعیت کی دعوت دینے اور اس کے فضائل بیان کرنے کے ساتھ ساتھ کچھ عملی پروگرام اور لائحہ عمل بھی بنائیں اس صورت میں امت مسلمہ کے اندر اتحاد و اتفاق قائم ہو سکتا ہے اور اس کا کھویا ہوا وقار بھی واپس آ سکتا ہے۔