نتھ بنی نکیل

Marriage

Marriage

تحریر : ممتاز ملک.پیرس

کسی بھی لڑکی کی زندگی کا سب سے اہم وقت وہ ہوتا ہے جب وہ بڑی امیدوں اور مان کیساتھ کسی فرد کو اپنی زندگی کا ساتھی بنا کر اس کے سنگ آنکھوں میں حسین سپنے سجائے اپنی دنیا بسانے کے لئے روانہ ہوتی ہے. شادی اس کے لیئے نئی زندگی کا آغاز ہوتی ہے. وہ اپنے لیئے ایک سکھی اور مطمئن گھرانے کا خواب لیکر اپنے بابل کی دہلیز سے پاؤں باہر نکالتی ہے. سچ پوچھیں تو اس کے اس خوبصورت گھرانے میں اس کے ساتھ صرف اس کا ہمسفر اور اس کی اولاد ہوتی ہے. جنہیں وہ ہر سکھ دینا چاہتی ہے. وہ اس سے منسلک رشتوں سے عزت اور خلوص کا تعلق بنانا چاہتی ہے. لیکن ایک دیوار کے فاصلے کیساتھ. وہ اپنے گھر کو اپنی مرضی سے بنانا اور چلانا چاہتی ہے.

لیکن یہ خواب اکثر ذیادہ طویل نہیں ہو پاتا کہ شوہر کے گھر کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی کسی نہ کسی بہانے اسے چند گھنٹے قبل نچھاور ہونے والے سسرالیوں کی جانب سے پہلا دھچکا پہنچایا جاتا ہے. جب نامعلوم وجوہات پر دلہن کے سسرال کی چوکھٹ پر قدم رکھتے ہی ایک کا منہ شمال کی جانب ہوتا ہے اور ایک کا منہ جنوب ک جانب. اسے گھر دکھانا تو کیا اس کا کمرہ دکھانے کو بھی کوئی بخوشی تیار نہیں ہوتا. اور اگر کوئی یہ فریضہ انجام دے بھی دے. تو کمرے میں دولہا صاحب کا داخلہ ایک اور ڈرامے کساتھ ہوتا ہے . اپنی زندگی کی پہلی باضابطہ ملاقات میں وہ لڑکی جو اس امید پر ہوتی ہے کہ اس کا شوہر اس سے اپنی محبت کا اظہار کریگا, اسے اپنے ساتھ زندگی کے سفر میں ہر اچھے برے وقت میں ساتھ ہو نے کا اعتبار دلائیگا, اس کی حفاظت کا وعدہ کریگا, اسے پریشانیوں میں حوصلہ بن کر ساتھ رہنے کا یقین دلائے گا, اس کی خوشیوں کا ضامن بننے کی امید د دلائے گا…. لیکن یہ کیا ؟ وہ تو اکثر گھونگھٹ اٹھانے ک بھی زحمت نہیں کرتا اور اس پہلی ملاقات میں اسے اس کے فرائض کی ایک لمبییییییی فہرست سنانے لگا..

سنو میں آج جو کچھ ہوں اپنے والدین کی وجہ سے ہوں… انہوں نے میرے لیئے بڑی قربانیاں دی ہیں. اب “تمہارا” فرض ہے کہ “تم “ان کا خیال رکھو. ابّا جی صبح کی چائے چھ بجے پیتے ہیں اس کا خیال رکھنا انہیں ٹھنڈی چائے بالکل پسند نہیں ہے , امّی جی نے زندگی میں بڑے دکھ اٹھائے ہیں اب تم نے ان کا خیال رکھنا ہے امّی جی کو ناشتہ صبح آٹھ بجے تیار چاہیئے اس میں کوئی کوتاہی نہیں ہونی چاہئے.. میری بہن نے میرے لیئے بہت کچھ کیا ہے اب تم نے ان کا خیال رکھنا ہے ان کی اجازت کے بنا گھر میں کوئی کام نہیں ہوتا. تم بھی ان سے اجازت لیکر ہی ہر کام کرنا. امّی جی کے سالن میں نمک کم اور ابّا جی کے کھانے میں مرچی کم ڈالنا. میری بہن پر اس کے سسرال والوں نے بڑے ظلم کیئے ہیں تو وہ دل بہلانے کو مہینے میں اٹھائیس انتیس دن ہمارے پاس گزار لیتی ہیں . بہت دکھی ہیں. اس لیئے تمہیں ان کی ہر طرح سے دلجوئی کرنی ہے.

اور ہاں میری دوسری بہن ابھی بچی ہے اس کا کسی بات میں دل نہیں دکھانا. وہ تو اس گھر میں مہمان ہے اس لئے اسے خوامخواہ گھر کے جھمیلوں میں الجھانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ابھی پچیس سال کی بھی نہیں ہے امّی جی کی بہت لاڈلی ہے. (بائیس سال ک دلہن صم بکم سن رہی ہے) اس کے مزاج کے خلاف کوئی بات نہیں ہونی چاہئے. امّی جی کی جان ہے اس میں. ہمارے کمرے میں کوئی بھی آئے جائے اس پر میں کوئی بھی بات نہیں سنوں گا .. اور ہاں یہ ذیور صبح ولیمے کے بعد امّی جی کے پاس رکھوا دینا. محفوظ رہینگے. اور شادی پر پہلے ہی بہت خرچہ ہو گیا ہے. میں تو بال بال قرضے میں جکڑا ہوا ہوں اب تم میری بیوی ہو اور تمہارا کام ہے کہ مجھے ان قرضوں سے خلاصی دلاؤ. وہ ایسے کہ پہلے تو تم میرا حق مہر معاف کر دو تاکہ میں آج سکون سے سو سکوں. جس روز سے ہی منحوس حق مہر طے ہوا ہے مجھے تو مالیخولیا ہو گیا ہے. پلیز میرا حق مہر معاف کر دو میری پریشانی دور کرنا تمہارا فرض ہے..

جی ہاں یہ ہوتی ہے مکالمے بازی دیسی دولہا کی پہلی رات اپنی دیسی دلہن سے . یا یوں کہیئے دولہا کا اپنی شادی کی رات دلہن سے خطاب …
جس کا اختتام ہوتا ہے اس جملے پر کہ سنو مجھے میری بات پر آگے سے جواب , تکرار یا بحث بالکل پسند نہیں ہے.. اس بات کا خیال رکھنا 😮
جی ہاں واقعی ہر دس میں سے سات گھروں میں یہ ہی سین فلمایا جاتا ہے.. کیونکہ
ہمارے معاشرے میں لڑکی پورے خاندان کی نوکرانی کے طور پر جو لائی جاتی ہے ناک میں نتھ کو نکیل کی صورت ڈال کر …
انسان سمجھ کر لائی جاتی تو اسے بات کرنے کا بھی حق ہوتا اور اختلاف پیش کرنے کا بھی .
یہ ہی وجہ ہے کہ جب وہ ان معاملات میں ناک تک آ جاتی ہے تو خود کو مطمئن کرنے کے لیئے چور دروازے تلاش کرنے لگتی ہے ..کبھی تعویذ گنڈوں کی صورت..
کبھی منہ ماری کی صورت،
کبھی جھوٹ بولنے کی صورت
اور کبھی بےوفائی کی صورت
جبکہ مرد کھڑا سوچتا رہتا ہے کہ
ارے یہ بھی کوئی بات تھی کہ تم نے میرے گھر والوں کو جواب دیدیا..
ارے یہ بھی کوئی بات تھی کہ تم نے میری بہن کو ناراض کر دیا..
ارے یہ بھی کوئی بات تھی کہ تم نے منہ پھلا لیا..
تم ہو ہی ناشکری عورت..
تمہیں کسی نعمت کی قدر ہی نہیں

لیکن یہ نہیں بتاتا کہ جو کچھ اس نے خود ساختہ طور پر نعمت قرار دیکر اس کے آگے پیش کر دیا ہے وہ اس کی شریک زندگی کے لیئے بھی نعمت ہے یا زحمت ہی زحمت ؟ وقت بدلتا ہے اور نظریات بھی بدلتے ہیں لیک اکثر بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے..

یہ سب چیزیں اس وقت اس کا نظریہ بدلتی ہیں جب اس کی اپنی بیٹی کے آگے یہ ساری نعمتیں پیش کی جاتی ہیں اور وہ خود ہی اسے زحمتیں قرار دے دیتا ہے …

یقین کیجئے ہمارے معاشرے میں بہت کچھ بدل سکتا ہے اگر صرف مرد اپنی شادی پر وہ سوچ اور احساس اپنا لے جو وہ بیس پچیس سال کے بعد اپنی بیٹی کی شادی کےموقع پر اپناتا ہے.. اس بیس سال میں جو حق تلفیاں وہ کسی اور کی بیٹی کو اپنی بیوی بنا کر کر چکا تھا . وہ اس گناہ سے بھی بچ جاتا.
(یہ تحریر سو فیصد افراد پر لاگو نہیں ہوتی)

Mumtaz Malik

Mumtaz Malik

تحریر : ممتاز ملک.پیرس