ادبی فورم کے زیر اہتمام پیرس میں مقیم نوجوان شاعر آصف جاوید عاصی کے پہلے مجموعہ کلام حسبِ حال کی شاندار تقریب رونمائی کا انعقاد کیا گیا

پیرس : ادبی فورم کے زیر اہتمام پیرس میں مقیم نوجوان شاعر آصف جاوید عاصی کے پہلے مجموعہ کلام حسبِ حال کی شاندار تقریب رونمائی کا انعقاد کیا گیا نظامت کے فرائض فرانس کی معروف شاعرہ سمن شاہ نے انجام دیے جبکہ تقریب فرانس کے ممتاز شاعر اسد رضوی کے زیر صدارت اور مہمان خصوصی سیاسی رہنما جناب ابو بکر گوندل تھے مہمان شعراء میں پیرس کے معروف شعراء سمن شاہ جناب ایاز محمود ایاز جناب عاکف غنی کے علاوہ نئے شعراء فیصل بھکوال اور راجہ مدثر نے بھی حصہ لیا تقریب کا آغاز تلاوت قران پاک سے ہوا۔

تلاوت کی سعادت سیاسی رہنما جناب راجہ عجب نے حاصل کی اس کے بعد ہدیہ نعت پیش کرنے کے لیے ادارہ منہاج القران کی جنرل سکریٹری مذہبی اور سماجی سرگرمیوں میں ہمیشہ پیش پیش منفرد اور خوبصورت آ واز کی مالک محترمہ ستارا ملک صاحبہ تشریف لائیں۔

حسب حال کی رونمائی کی رسم ادا کرنے کے لیے محترمہ سمن شاہ نے شاعر آصف جاوید عاصی کے ساتھ معروف شاعر ایاز محمود ایاز کو اسٹیج پر آنے کی دعوت دیتے ہوئے وضاحت کی کہ حسب حال کی تیاری میں ایاز محمود ایاز کا بھرپور تعاون اصلاح اور حوصلہ افزائی شامل ہے رونمائی کے بعد شاعر کی کتاب پر تقریب کے شرکاء نے شاعر آصف جاوید عاصی کو مبارک باد دیتے ہوئے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

محترمہ طاہرہ سحر ادارہ منہاج القران کی سرگرم رکن سماجی اور مذہبی تقریبات میں بڑھ جڑھ کر حصہ لیتی ہیں بچوں کے ساتھ مختلف ٹیبلو پیش کرنے میں کافی مہارت رکھتی ہیں ڈیلی انٹرنیشنل دی جائزہ ویب سائٹ کی ریزیڈنٹ ایدیٹر اور کالم نگار نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ شاعر نے اپنے کلام میں سیاسی اور معاشرتی مسائل پر بہت گہرائی سے لکھا ہے۔

عاکف غنی معروف شاعر کالم نگار نے شاعر کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے کلام کے ذریعے پاکستان کے مسائل کو بہت خوبی سے اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے ایاز محمود ایاز ممتاز شاعر کالم نگار کئی کتابوں کے خالق جنہوں نے آصف جاوید عاصی کی کتاب میں لمحہ بہ لمحہ معاونت کی انہوں نے شاعر کو پر جوش مبارک باد دیتے ہوئے اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حسب ِ حال ادبی دنیا میں ایک اچھا اضافہ ثابت ہو گی۔

تقریب کی ناظم معروف شاعرہ کالم نگار اور نظر نگار سمن شاہ نے کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ان کی کتاب کے عنوان حسب حال سے ہی ظاہر ہوتا ہے کہ کتاب میں کلام حالات حاظرہ پر لکھا گیا ہے کتاب پڑھتے ہوئے اندازاہ ہوتا ہے کہ کلام میں سیاسی رنگ نمایاں ہے اور اسے مزاح کے رنگ میں اجاگر کرنے کی کوشش کی گئی ہے بلا شبہ یہ ایک اچھی کاوش ہے اس میں مذید محنت اس کے رنگوں کو اور بھی شاداب کر دے گی پیرس کی ادبی فضاؤں میں یہ کتاب ایک نئے خیال اور نئی سوچ کے ساتھ شامل ہوئی ہے انہوں نے امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس نئی کوشش کو ادبی حلقوں میں ضرور پزیرائی ملے گی کتاب پر تبصروں کے بعد باقاعدہ مشاعرہ کا آغاز کیا گیا سمن شاہ نے حسب روایت اپنے کلام سے شروعات کی حالات حاظرہ پر لکھی ایک غزل کے چند اشعار
ہوس کی اس سیاست سے بغاوت اب ضروری ہے
یزیدی ہر روایت سے عداوت اب ضروری ہے
کہیں نہ دیر ہو جائے کوئی اندھیر ہو جائے
تمہارے فیصلے کی یہ جسارت اب ضروری ہے

حاظرین محفل سمن شاہ کاے اس کلام سے خاصے محظوظ ہوئے ان کے بعد جانے پہچانے شاعر عاکف غنی نے اپنا کلام ترنم میں بھی سنا کر خوب داد سمیٹی انکے کلام سے کئچھ اشعار

ہم جان نہیں پائے سچ ہے کہ بہانہ ہے
وہ روٹھ گئے ہم سے اتنا ہی فسانہ ہے
دو پل کے لیے ٹھہرو تم پاس میرے ہمدم
دو پل ہی سہی تم کو کچھ حال سنانا ہے

عاکف غنی کے بعد نئے شعراء فیصل بھکوالراجہ مدثراور سیاسی رہنما یاسر قدیر نے اپنا
کلام سنایا ایاز محمود ایاز ادبی حلقوں میں اپنا ایک منفرد مقام رکھتے ہیں شاعرانہ کلام میں نعتیہ کلام آارزؤے جاں انکی ایک خوبصورت کوشش ہے جسے بے حد پذیرائی حاصل ہو چکی ہے دھیمے اور پختہ لہجے کے نوجوان شاعر کاے کلام کی ایک جھلکی مرے قاتل کو روک کر کہنا قتل کر کہ دعا نہیں دیتے اور پلکوں پہ کوئی اشک کہاں بار رہے گا جب تک یوں میرے ساتھ تیرا پیار رہے گا۔

آنچل میں چھپا لوں گا کھلے زخم شگوفے اشکوں میں تیرا عکس لگاتار رہے گا تقریب کے صدر جناب اسد رضوی یورپ اور پاکستان کے ادبی حلقوں میں اپنا الگ مقام رکھتے ہیں مذہبی اور ادبی سرگرمیوں کے حوالے سے اپنی خاص پہچان رکھتے ہیںانہوں نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سمن شاہ کو مبارک باد پیش کرتا ہوں انہوں نے پیرس میں ادبی سفر کو جاری رکھا ہوا ہے اور سمن شاہ کی ادبی تقریبات سے پیرس میں لوگوں کے اندر لکھنے کا رحجان پیدا ہوا ہے
انکی ایک مشہور غزل کے چند اشعار
مست آنکھوں کی حراست میں چلے آئے ہیں
بے اماں لوگ حفاظت میں چلے آئے ہیں
ہم کو اس جنگ کے اسباب نہیں معلوم
ہم تو بس شوق شہادت میں چلے آئے ہیں

محترمہ ستارہ ملک نے صوفیانہ کلام سنا کر محفل میں عجب سماں باندھ دیا حاظرین ان کی خوبصورت اآواز میں کھوئے رہے محترمہ ستارا ملک ان کے کلام پر بہت داد ملی
پروگرام کے آخر میں مہمان خصوصی سیاسی رہنما جناب ابوبکر گوندل نے شاعر آصف جاوید عاصی کو مبارک باد پیش کی اور ایک پر وقار تقریب کے انعقاد پ ایاز محمود اور محترمہ سمن شاہ کو بھی مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی تقاریب ہوتی رہنی چاہیے۔

سمن شاہ پروگرام خٹم کرتے ہوئے مہمانوں اور خاص طور پر تمام جرنلسٹ جناب بابر مغل زاہد اعوان محترم رضا چودھری جنگ اور جیو نیوز پیرس کے رپورٹر اور باقی دوستوں ک شکریہ ادا کیا مشاعرہ کے بعد مہمانوں کے لیے پر تکلف ڈنر کا اہتمام تھا اور اس کے بعد یہ ایک خوبصورت اور یادگار ادبی تقریب اپنے اختتام کو پہنچی۔