ایران جوہری ڈیل کے لیے ضرر رساں مزید اقدامات سے گریز کرے : یورپی یونین

European Union

European Union

برسلز (جیوڈیسک) یورپی یونین نے ایران پر زور دیا ہے کہ وہ 2015ء میں طے شدہ تاریخی جوہری سمجھوتے کے لیے ضرررساں مزید اقدامات سے گریز کرے۔اس کا کہنا ہے کہ وہ اس ڈیل کے دوسرے فریقوں سے رابطے میں ہے اور اس معاملے کے جائزے کے لیے ایک مشترکہ کمیشن بھی قائم کیا جاسکتا ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ فیڈریکا مغرینی کی ترجمان ماجا کوچی جانچیک نے اتوار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’ ہمیں ایران کے یورینیم کو 3.67 فی صد سے بالائی سطح تک افزودہ کرنے کے اعلان پرگہری تشویش لاحق ہے‘‘۔

انھوں نے کہا : ’’ ہم ایران سے پُرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ جوہری سمجھوتے کے تقاضوں کے منافی تمام سرگرمیوں کو روک دے او ر اس ضمن میں اپنے حالیہ تمام اقدامات کو واپس لے۔ ہم جوہری سمجھوتے ( مشترکہ جامع لائحہ عمل) کے دوسرے فریقوں سے رابطے میں ہیں تاکہ اس سمجھوتے کی شرائط کے تحت ایک مشترکہ کمیشن سمیت مزید اقدامات کیے جاسکیں‘‘ ۔

قبل ازیں ایران نے 2015ء میں چھے عالمی طاقتوں کے ساتھ طے شدہ جوہری سمجھوتے کی بعض شرائط پر عمل درآمد ترک کرنے کا اعلان کر دیا ہے اور ان کی خلاف کرتے ہوئے یورینیم کو مقررہ 3.67 فی صد سے زیادہ پانچ فی صد کی سطح تک افزودہ کرنا شروع کردیا ہے ۔ جرمنی نے اس کے ردعمل میں کہا کہ اس کو ایران کے اس اقدام پر گہری تشویش لاحق ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے اس پر مفاہمانہ بیان جاری کیا ہے اور کہا ہے کہ اس جوہری سمجھوتے سے پہلوتہی پر مبنی جو بھی اقدامات کیے جارہے ہیں ، وہ مستقل نہیں ہیں اور انھیں واپس لیا جاسکتا ہے۔

جواد ظریف نے اتوار کو ایک ٹویٹ میں کہا کہ ’’ ایران جوہری سمجھوتے کے پیرا 36 کے تحت دوسرے مرحلے میں اپنے نقصانات کے ازالے کے لیے تلافی اقدامات کررہا ہے۔ہم اس سمجھوتے کی شرائط کے تحت قانونی اقدامات کو جاری رکھنے کا حق رکھتے ہیں تاکہ ہم امریکا کی اقتصادی دہشت گردی کےمقابلے میں اپنےمفادات کا تحفظ کرسکیں‘‘۔