کیا یہ دوری منظور ہے؟

Quran

Quran

تحریر : شاہ بانو میر

یہ پرانی بات ہے
گوجرانوالہ میں تعلیمی اداروں کی تفصیل پوچھی تو
اکثریت نے دو نام بتائے
ب ھاوس ڈی پی ایس
ایک سکول ب ھاؤس کی زیادہ تعریف ہوئی
کسی بچے کے ایڈمشن کیلئے جانا تھا
میں نے ب ھاؤس کو چنا
ٹیسٹ کلئیر ہو گیا تو
کلرک آفس میں پیسے جمع کروانے کا کہا گیا
مجھے
اس تعلیمی ادارے کی مقبولیت کے پیچھے
اُس نصاب کو جاننا تھا
جسے شہر میں بیحد پزیرائی مل رہی ہے
میں آفس میں بیٹھی سوچ رہی تھی
کہ
عمارت ویسی ہی ہے
جیسے مغربی ممالک کے سکول
یکایک
ایک منظر سامنے ابھرا
اللہ اکبر
یہ کیا ہے؟
میں پاکستان ہوں یا کسی یورپی ملک میں؟
سوالات تھے
کہ
اٹھتے چلے جا رہے تھے
کیا یہ گوجرانوالہ ہے؟
سادگی خلوص اور رشتوں کی مہک سے مہکتا شہر
یہی خاصہ یہی تعارف ہمیشہ رہا میرے شہر کا
اس ایک منظر سے جو آج مسخ ہو گیا
گوجرانوالہ کب اتنا بدل گیا ؟

سامنے سے آتے ہوئے دو نوجوان بچے
ایک لڑکا ایک لڑکی کندھے سے کندھا جوڑے ہوئے
بے تکلفی کے ساتھ ہنسی مذاق کرتے ہوئے
وہ لمبی پتلی سی باغ کے اطراف میں بنی
گلی کو عبور کر گئے
پتہ ہی نہیں چلا
مجھے گوجرانوالہ کے اس تعلیمی ادارے کے
مستقبل کا انداذہ ہو گیا تھا
کہ
گوجرانوالہ میں ب ھاؤس سکول کا طرز تعلیم
میرے سادہ لوح شہریوں کو ہِلا کر رکھ دے گا
چھٹیوں میں پاکستان جانا ہوا
کہیں کھانا تھا
دوران گفتگو تعلیمی معیار پر بات آئی
تو
ب ھاؤس سکول کا نام آیا
اُن خاتون کا کہنا تھا
گوجرانوالہ میں اس سکول کی بڑہتی ہوئی
بے باکی اور حد درجہ آزاد خیالی نے
ایسے ایسے واقعات کو جنم دیا
کہ
کئی فیملیز سر تھام کر رہ گئیں
بچیوں کو دوسرے سکول میں داخل کروا دیا گیا
یوں
سکول میں پیدا ہونے والے
گھمبھیر مسائل پر شدید احتجاج ہوا
تو
ان کو مخلوط نظام تعلیم ختم کرنا پڑا
اب
گرلز سیکشن کی طرف بوائز بالکل نہیں جا سکتے تھے
اللہ اکبر
مجھے وہ منظر پھر یاد آگیا
تحریک انصاف کی بڑی رہنما کی پوری فیملی کا
براہ راست تعلق اس سکول سے ہے
ان کا حلیہ ویسا ہی ہے
جیسا اس سکول کا ماحول ہے
ان دنوں
اوپر تلے اس سکول سے
اسلام کیلئے مسلسل
منفی رویّہ سامنے آ رہا ہے
یہ کیسی ریاست مدینہ ہے ؟
جہاں محمدﷺ کے دیے ہوئے اسلام کی
خواہ اذان ہو یا نسوانی حساس معاملات
ان کو ہتک آمیز انداز میں بیان کیا جاتا ہے؟
ملک کے حاکم دین سے مخالف سمت چل کر
نجانے کونسی
ریاست مدینہ کو تشکیل دے رہے ہیں؟
جس میں اسلام کے شعائر کو
مسخ کر کے دین کی اہمیت اپنے ملک میں ہی گھٹایا جارہا ہے؟
کیا
جماعت ہشتم کی کتاب کے ایک چیپٹر میں
مسجد بنا کر کانوں میں انگلیاں ٹھونس کر چیختے ہوئے
اذان کودیتے دکھایا گیا ہے
اس کو ماحولیاتی آلودگی سے تشبیہ دی گئی ہے ؟
مجھے کوئی تعجب نہیں ہوا
اس لئے کہ بہت سال پہلے
اس ادارے کی اسلام سے دوری اور بے راہ روی جان چکی تھی
شرم آنی چاہیے
ایسے ادارے کو اور ایسے نام نہاد مسلمانوں کو
اذان کو ماحولیاتی آلودگی کہہ کر پڑہا رہے ہیں؟
یہ شعور بٹ رہا ہے؟
یہ تعلیم دی جا رہی ہے؟
اس قبیح فعل کے منظر عام پر آنے کے بعد
حکومتی ذمہ داری نہیں بنتی
دو نہیں صرف ایک اسلامی پاکستان کے لئے
اس سکول کی انتظامیہ کے اسلام دشمن رویے کی تحقیقات کروائے ؟
اس سے بڑی ذہنی غلامی کی اور کیا صورت ہوگی؟
مزید جس قسم کی باتیں سنی ہیں
صرف
انا للہ و انا الیہ راجعٰون
ہی پڑھ سکی
ایسے سکول جو
یورپین سکولز کی ترجمانی کے لئے کھولے جاتے ہیں
یہ دراصل اوپن ِآفر ہے
ان والدین کے لئے
جو علم کیا ہے ؟
جانتے نہیں ہیں
وہ بچے کو سکول بھیج کر بادی النظر میں
بہترین ادارہ کے حوالے کر دیتے ہیں
یوں
کچھ سال بعد
بنا بنایا بے دین پا لیتے ہیں
تیز رفتار زمانہ ہے اور اس سے بھی زیادہ تیز رفتار یہ ادارہ
کل کے صابر مؤدب بچے ڈھونڈنے سے آج نہیں ملتے
آج
بچوں کی جارحانہ گفتگو کو بولڈنس کہا جاتا ہے
ان بچوں کے مغربی چکا چوند سے مزین دماغ
دین کو ترقی کی راہ میں رکاوٹ سمجھ کر
دور رہنا ہی پسند کرتے ہیں
نتیجہ
لحاظ ادب تمیز تہذیب کا
فقدان
آج عام دیکھا جا رہا ہے
وہ علم القرآن
جس نے صحرا کے بد لحاظ موٹے دماغ والے بدوؤں کو
شائستگی تہذیب تمیز اور ادب کا اعلیٰ معیار دیا تھا
وہ آج مسترد کیا جا رہا ہے
وہ صحرا سے اٹھے اور دنیا پر حاکم ہو گئے
ذہنی غلامی سے آزاد وہ صحابہ کرام جو
قرآن کی تعلیم کے بعد
علم کا ایسا اعلیٰ معیار قائم کرتے ہیں
کہ
اُس وقت تحریر نہیں
ان کے قول سچائی کی ضمانت سمجھے جاتے تھے
استاد کی عزت کیسے کرتے ہیں
کوئی ان سے ادب سیکھے
ساکن بیٹھے ہوتے تعلیم لیتے
گویا مجسمے ہوں
میرے ملک میں
ذہنی مفلوک الحالی تو پہلے ہی بہت تھی
مگر
اب جسے علم کہتے ہیں
وہ بھی ناپید ہوا
اور
نوکریوں کے لئے ڈگریوں کا زمانہ آگیا ہے
سوچیں
کیسی تھی وہ تعلیم
اُس چبوترے پر بیٹھے معلم اعظم کی
اور
کیسے تھے سعادت مند با ادب خاموش طالبعلم
جو جو جو سبق پڑھے انہیں پّکا کرتے رہتے
یوں
ہر موقعہ پر استاد کے سبق کومشعل راہ بنایا
کامیابی کی داستانیں رقم کرتے گئے
ب ھاؤس جیسے غلام سوچ کے حامل تعلیمی ادارے
ذہنوں کو طاقت اور امید نہیں دلاتے
مفاد پرستی کے
خود غرضی کے
لالچ کے طمع حرص کے
سبق سکھاتے ہیں
استحصال کیسے کرنا ہے
چھیننے کے گُر سکھاتے ہیں
کمزور پر حاوی ہو کر
اس کے وسائل کو کیسے ہڑپ کرنا ہے
انہی سوچوں کا ملغوبہ
سال ہا سال ذہنوں میں ڈالا جاتا ہے
یوں
ادارہ سے مومن کو نہیں غاصب کو
تیاری کے ساتھ باہر بھیجا جاتا ہے
جو معاشرے میں اپنی حاکمیت کو
سکھائی گئی چالوں سے ثابت کرے گا
دوسری جانب گھُپ گھیر اندھیرے میں
اللہ کے وہ بندے بھی ہیں
جو
بچوں کو اعلیٰ تعلیمی معیار کے ساتھ ساتھ
ان کی دینی تعلیمی سے غافل نہیں ہیں
ماں ہو یا باپ
نمازوں کی پابندی پر نظر رکھتے ہیں
یہی ہیں وہ کامیاب بڑے لوگ
یہی سرخرو والدین ہیں
جن کا گھر محفوظ ہے
جن کی نسل محفوظ ہے
مگر
وہ دولتمند لوگ جن کے پاس پیسہ تو بہت ہے
مگر
تربیت اور سوچ کی کمی ہے
وہ اندھا دھند دوڑ میں کچھ اور نہیں
صرف
اپنی اولاد کو کھو دیتے ہیں
ہوش میں آتے ہیں
تو
اپنی اولاد بہت دور
کسی اور بدیسی رنگ میں رنگی ہوئی
عجیب الخلقت مخلوق دکھائی دیتی ہے
یوں
ایک نسل کا نہیں
صدیوں کا فاصلہ حائل ہو جاتا ہے
یاد رکھیں
بھاری تعلیمی فِیس نہیں
بچوں کو والدین کی تربیت
گوہر نایاب بناتی ہے
ایسے گمراہ کُن تعلیمی ادارے کسی کو
کچھ نہیں دے سکتے
سوائے
اپنے دین سے والدین سے دوری کے
کیا یہ دوری آپکو منظور ہے؟

Shah Bano Mir

Shah Bano Mir

تحریر : شاہ بانو میر