یونان کے دارلحکومت ایتھنز میں پہلی سرکاری مسجد کی تعمیر مکمل

ایتھنز (رپورٹ) یونان میں گزشتہ کئی دہائیوں سے موضوع بحث رہنے والی پہلی سرکاری مسجد کی تعمیر بالآخر مکمل ہوگئی،تفصیلات کے مطابق جمعہ 7جون کے روزیونانی وزیر برائے مذہبی امور کوستاس غاوروگلونے مسلم کمیونٹیز کے نمائندگان کیساتھ مسجد کا دورہ کیااِس موقع پرممکنہ ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کیلئے سخت سیکورٹی انتطاما ت بھی کیئے گئے تھے۔یونانی وزیربرائے مذہبی امور نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ اس مسجد کی تعمیر کیساتھ یونان میں بسنے والے مسلمانوں کیساتھ اپنا وعدہ پورا کردکھایا ہے۔اس مسجد کااندرونی احاطہ تقریباً ایک ہزارمربہ میٹر ہے جبکہ مسجد کے اطراف میں سترہ ایکڑ کی اراضی پر زیتون کے درخت اور مختلف اقسام کے پودے لگائے گئے ہیں،مسجد کی تعمیر اور تزئین و آرائش پر آٹھ لاکھ ستاسی ہزار یورو کی لاگت آئی ہے جبکہ مسجد کے اطرا ف میں موجود پارک بلدیہ ایتھنز کی جانب سےادا کیئے گئے اخراجات سے تعمیرکیا گیاہے۔یونانی دارلحکومت ایتھنز کی پہلی سرکاری مسجد کی مرکزیت اور اسلامی ثقافت کو مدنظر رکھتے ہوئےایران سے اعلی قسم کا قالین برآمد کیا گیا ہے جبکہ لکڑی سے بنائے گئے ممبر و محراب کا کام مصری کاریگروں نےانجام دیا ہےجس پر آیات قرآنی نہایت ہی خوبصورتی اور مہارت سےنقاشی کی گئی ہیں، مسجدکی خوبصورتی بڑھانے کیلئے کے بیرونی احاطہ میں سنگ مرمر کاخوبصورت فوارا بھی نصب کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ مسجد میں گنبد و مینار تعمیر نہیں کیا گیا ہےجس پر مسلم اکابرین نےمتعلقہ حکام سے گنبد و مینار کی تعمیر کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ گنبد و مینارمسجد کا جُز ہونے کیساتھ ساتھ اسلامی ثقافت و روایات کا حصہ ہیں جن کی تعمیر کے بغیر مسجد ادھوری ہے۔اس مسجد میں مرکزی ہال کیساتھ خواتین نمازیوں کیلئے ایک چھوٹا ہال بھی موجود ہےاور اس مسجد میں مجموعی طور پر ساڑھے تین سو نمازی بیک وقت نماز ادا کرسکیںگے۔یادرہےکہ اس مسجد کے حوالے سے قانون سازی سن 2006میں کی گئی تھی مگر مختلف قانونی اور انتظامی رکاوٹوں کے باعث اسکی تعمیرموخر ہوتی رہی۔موصولہ اطلاعات کے مطابق اس مسجد کا افتتاح ماہ رمضان کے دوران ہونا تھا مگر یونان میں ہونیوالے یورپی اور بلدیاتی انتخابات کے باعث بدلنے والی سیاسی صورتحال کے باعث نہ ہوسکا۔میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے سرکاری مسجد کی انتظامی کمیٹی کے پاکستانی نژاد رُکن سید اشیر حیدر نے کہا ہے کہ یہ مسجد ریاست کی جانب سے یونان میں بسنے والی مسلم کمیونٹی کیلئے عظیم تحفہ ہے ِاس مسجد کی تعمیر کیساتھ مسلمانوں کا دیرینہ مطالبہ اور خواب پورا ہوا ہے،اگلے ماہ یونان میں ہونیوالے قومی انتخابات کے بعد مسجد کو مطلوبہ عملے کی تقرری کیساتھ ہی عبادت کیلئے کھول دیا جائیگا، اُنکا مزید کہنا تھا کہ یہ مسجد یورپ کی پہلی مسجد ہے کہ جس کی تعمیر سو فیصد سرکاری فنڈنگ سے عمل میں آئی ہےاور اسکے انتظامی اخراجات بھی سرکاری بجٹ سے پورے کیئے جائیں گے۔اس موقع پریونانی اور بین الاقوامی میڈیا نماندگان کی بڑی تعدادموجود بھی موجود تھی۔ یاد رہے کہ یہ مسجد یونانی بحری افواج کیجانب سے وقف کردہ اراضی پر تعمیر کی گئی ہےاور اسکی تعمیر وزارت مذہبی امور، وزارت انفراسٹرکچر، یونانی بحریہ اور بلدیہ ایتھنز کے مابین اختیارات کے تعین اور اسکےخلاف اعلی عدلیہ میں دائرہونیوالی متعدد درخواستوں کے باعث تیرہ سال کا طویل عرصہ لگا ہے۔

Athens Mosque

Athens Mosque

Athens Mosque

Athens Mosque

Athens Mosque

Athens Mosque

Athens Mosque

Athens Mosque