ہمارے بچے ہمارا امتحان

Hope

Hope

ممتاز ملک۔ پیرس
کہتے ہیں کہ جب بھی کوئی بچہ اس دنیا میں آنکھ کھولتا ہے تو یہ امید بھی ساتھ لاتا ہے کہ خدا ابھی انسان سے ناامید نہیں ہوا ہے . تو گویا ایک انسان کی پیدائش رب کی امید لیکر آتی ہے اور یہ امید یقینا خیر کی کام ہی ہی ہو سکتی بے خیری کی تو ہو نہیں سکتی . کیونکہ یہ امید تخلیق کار کی اپنی تخلیق سے ہے . ہم بار بار اللہ کے بعد اسے دنیا میں لانے والے کے حقوق تو زورشو رسے بتایا ہی کرتے ہیں لیکن ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ آنے والا کوئی چھ فٹ کا کماتا ہوا طاقتور جوان نہیں ہے بلکہ گوشت پوست کا ایک تین کلو کا معصوم سا وجود ہے جو اپنی ہر ضرورت کے لیئے آپ کی مدد کا محتاج ہے . تو اس کی مدد کیسے کی جائے ؟۔

اس بچے کو دنیا میں لانے سے پہلے خود کو ذہنی جسمانی اور مالی طور پر اس کی تعلیم و تربیت اور پرورش کے لیئے تیار کیا جائے اور بچے کو اندھیرے کا تیر سمجھ کر نہ چلایا جائے بلکہ اس کو اس معاشرے کا بلکہ دنیا کا ایک بہترین فرد بنانے کے لیئے ہر ممکنہ سہولت دی جائے . محبت اور اعتماد کی کھاد اس کی جڑوں میں ڈالی جائے . انصاف کی فضا اپنے گھر سے میسر کی جائے . جہاں اس کا حق اس کے مانگے بنا ملے گا اور کوئی بہن بھائی یا ماما چاچا اس کی زندگی کا دخیل نہیں ہو گا تو بچہ بھی کل کو آپ کو ہی نہیں ساری دنیا کو اس کے حقوق بنا مانگے دینے کا اہل ہو گا . ہمارے ہاں ہمیشہ بچوں کو یہ سکھانے پڑھانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ ماں کے یہ حقوق ہیں.تمہارے انکی طرف یہ فرائض ہیں،وہ فرائض ہیں۔
یہ نہ کیا تو جہنم میں جاو گے….
وہ نہ کیا تو برباد ہو جاو گے..

Rights

Rights

باپ کے حقوق تو مائیں نویسے بھی بیان.کرنا ضروری نہیں.سمجھتیں ہیں . حالانکہ.ماں اگر جنت یت تو اس جنت کا دروازہ تو ہوتا ہی دراصل اس کا باپ ہے . اور ہماری مائیں اپنے بچوں کو بغیر دروازے کی جانے کون سی جنت میں داخل کرنے کا منصوبہ بناتی رہتی ہیں . جس کے لیئے باپ کی کوئی ضرورت ہی نہیں ہے . اور تو اور ایسے میں کبھی کسی نے یہ کیوں نہیں بتایا کہ اس بچے کے اس کے پیدا کرنے والے پر بھی کچھ حقوق ہیں . جو انہیں بھی جہنم میں لے جا سکتے ہیں . آخرت میں اللہ کے سامنے جوابدہ کرتے ہیں. جبکہ عورتوں اور بچوں کے حقوق اور حفاظت کی بارہا تلقین فرمائیں گئی ہے . ہمارے ہاں بدقسمتی سے قرآن پاک کو تعلیمی اور تربیتی نقطہ نظر سے نہ کبھی دیکھا گیا ہے نہ ہی اس سے استفادہ کیا گیا ہے۔

اسے صرف ڈرانے اور کم علموں کو دبا کر ان سے فوائد حاصل کرنے کے لیئے ہی استعمال کیا گیا ہے . ورنہ ہماری زندگی کا ایک ایک پل اس کی روشنی میں منور ہو سکتا ہے . ہمارے ہاں عورت اور بچے جس قدر غیر محفوظ ہیں وہ ایک خوفناک صورتحال ہے . کسی بھی خاتون کو رات کیا دن میں کہیں اکیلا (لاکھ پردے میں ہی) کھڑا کر کے دیکھ لیں …. کسی بچے کو کھڑا کر کے دیکھ لیں …کیسے گوشت کی بو سونگھتے کتے کی طرح ان کے شکاری پہنچتے ہیں۔

Children

Children

بچے پیدا کرو، یہ تو ہمیں معلوم ہے لیکن کتنے پیداکرو ،کہ پال سکو، یہ کہہ دے کوئی تو سمجھیئے، اپنا ہی سر منڈوانے والی بات ہے . تربیت تو بہت دور کی بات ہے . ہمارے ہاں بچہ ہماری ذمہ داری نہیں، ہماری جاگیر ہوتا ہے ..سو اسے جاگیر کی طرح ہی برتا بانٹا اور کاٹا جاتا ہے . اللہ پاک ہمیں بچے کو دنیا میں لانے سے پہلے اس کی پرورش اور تعلیم و تربیت کا شعور عطا فرمائے. یاد رکھیئے ماں باپ کا حق بعد میں شروع ہوتا ہے اس سے پہلے ہم پر بچے کا حق لاگو ہوتا ہے۔

جس میں یہ.شامل ہے کہ ہم اسے محبت اور حفاظت کیساتھ اچھا طرز ذندگی اور تعلیم و تربیت دے سکیں اور اسے یہ. تا سکیں کہ کب ،کہاں کس ، سے کس طرح بات کرنی ہے اور کس سے کیسے اور کتنا تعلق رکھنا ہے . اس کی خوشیوں کو اپنی خوشی کہ طرح محسوس کیا جائے اور اسکی پریشانیوں کو محبت سے اپنے تجربات کی روشنی میں مشاورت سے حل کیا جائے. ورنہ روز قیامت ہمارے گریبان کو ہمارے بچوں کے معصوم ہاتھوں سے کوئی نہیں بچا سکتا۔

Mumtaz Malik

Mumtaz Malik

ممتاز ملک۔ پیرس