اے میرے پاکستان
نیک جو راہ ہو اس رہ پہ چلانا مجھ کو
کچھ رتجگے تھے جن کی ضرورت نہیں رہی
یہ قوم اب تمہاری وراثت نہیں رہی
الیکشن 2018
اس کے ہاتھوں سے جو خوشبوئے حنا آتی ہے
جو بھولنا تھا مجھ کو وہی یاد رہ گیا
چھپ کے تنہائی میں کچھ اشک بہالے تو بھی
یہ دل کا معاملہ ہے کوئی دل لگی نہیں
ہم اور کانچ کا گلدان
اٹھو تاریک راتوں سے کوئی سورج نکالیں ہم
محبت میں خسارے کا سدا امکان رہتا ہے
آنکھیں اُٹھا کہ قافلہ سالار ہم ہوئے
گناہ گارِ وفا ہیں سزا بحال رہے
پکی ہے فصل سروں کی کٹائے دیتے ہیں
اپنی تصویر ڈھونڈتا ہوں میں
ماں
یادیں خوبصورت ہوتی ہیں
برس رہی ہیں نشیمن پہ بجلیاں لوگو
وقت کیساتھ ساتھ مسکرانا بھول گیا ہوں
ماں باپ کا  کچا مکاں مسمار بہت ہے
تو   زر دار بہت ہے
میں پوچھ تو لوں پاؤں کی زنجیر سے پہلے
آٹے کی چیڑیا
Page 1 of 35123Next ›Last »