کبھی کبھی

کبھی کبھی

کبھی کبھی مرے دل میں خیال آتا ہے کہ زندگی تری زلفوں کی نرم چھائوں میں گزرنے پاتی تو شاداب ہو بھی سکتی تھی یہ تیرگی جو مری زیست کا مقدر ہے تری نظر کی شعاعوں میں کھو بھی سکتی تھی عجب…

محبت ترک کی میں نے گریبان سی لیا میں نے

محبت ترک کی میں نے گریبان سی لیا میں نے

محبت ترک کی میں نے گریبان سی لیا میں نے اب تو خوش ہو زہر یہ بھی پی لیا میں نے ابھی زندہ ہوں لیکن سوچتا رہتا ہوں خلوت میں کہ اب تک کس تمنا کے سہارے جی لیا میں نے انہیں…

تنگ آ چکے ہیں کشمکش زنگی سے ہم

تنگ آ چکے ہیں کشمکش زنگی سے ہم

تنگ آ چکے ہیں کشمکش زنگی سے ہم ٹھکرا نہ دیں جہاں کو کہیں بے دلی سے ہم مایوسئی مال محبت نہ پوچھیے! اپنوں سے پیش آئے ہیں بیگانگی سے ہم لو آج ہم نے توڑ دیا رشتہ امید لو اب کبھی…

چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں

چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں

چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں نہ میں تم سے کوئی امید رکھوں دل نوازی کی نہ تم میری طرف دیکھو غلط انداز نظروں سے نہ میرے دل کی دھڑکن لڑکھڑائے میری باتوں سے نہ ظاہر ہو تمہاری…

یہ کوچے یہ نیلام گھر دل کشی کے

یہ کوچے یہ نیلام گھر دل کشی کے

یہ کوچے یہ نیلام گھر دل کشی کے یہ لٹتے ہوئے کارواں زندگی کے کہاں ہیں کہاں محافظ خودی کے ثناء خوان تقدیس مشرق کہاں ہیں؟ یہ پریچ گلیاں یہ بے خواب بازار یہ گمنام راہی یہ سکوں کی جھنکار یہ عصمت…

تم چلی جائو گی، پرچھائیاں رہ جائیں گی

تم چلی جائو گی، پرچھائیاں رہ جائیں گی

تم چلی جائو گی، پرچھائیاں رہ جائیں گی کچھ نہ کچھ حسن کی رعنائیاں رہ جائیں گی تم تو اس جھیل کے ساحل پہ ملی ہو مجھ سے جب بھی دیکھوں گا یہیں مجھ کو نظر آئو گی یاد مٹتی ہے نہ…

ساحر لدھیانوی

ساحر لدھیانوی

ترقی پسند تحریک سے تعلق رکھنے والے مشہور شاعر۔8 مارچ 1921 کو لدھیانہ پنجاب میں پیدا ہوئے۔ خالصہ سکول سے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ گورنمنٹ کالج لدھیانہ سے میں داخلہ لیا۔ کالج کے زمانے سے ہی انہوں نے شاعری کا آغاز کردیا۔…

شام سے تنہا کھڑا ہوں یاس کا پیکر ہوں میں

شام سے تنہا کھڑا ہوں یاس کا پیکر ہوں میں

شام سے تنہا کھڑا ہوں یاس کا پیکر ہوں میں ہوں اور فصیلِ شہر سے باہر ہوں میں تُو تو آیا ہے یہاں پر قہقہوں کے واسطے دیکھنے والے بڑا غمگین سا منظر ہوں میں میں بچا لوں گا تجھے دنیا کے…

کمرے کی کھڑکیوں پہ ہے جالا لگا ہوا

کمرے کی کھڑکیوں پہ ہے جالا لگا ہوا

کمرے کی کھڑکیوں پہ ہے جالا لگا ہوا اُس کے مکاں پہ کب سے ہے تالا لگا ہوا پائی تھی گھر کے سامنے مفرور شب کی لاش اُس کے بدن میں برف کا بھالا لگا ہوا بارش بھی میرے دامنِ دل سے…

اب نظر آنا بھی اُس کا کہانی بن گیا

اب نظر آنا بھی اُس کا کہانی بن گیا

اب نظر آنا بھی اُس کا کہانی بن گیا وہ زمیں کا رہنے والا آسمانی بن گیا آج تک دل میں کوئی ٹھہرا نہیں اس کے بعد یہ مکاں بھی جانے والے کی نشانی بن گیا ڈوبتا ہی جا رہا ہے شہر…

کام بھی کرنا جنوں کا تو نہ ظاہر ہونا

کام بھی کرنا جنوں کا تو نہ ظاہر ہونا

کام بھی کرنا جنوں کا تو نہ ظاہر ہونا کتنا دشوار ہے اس دور میں شاعر ہونا موسمِ گل میں بھی آئیگا جہاں پھول نہ پھل میری قسمت میں تھا اس شاخ کا طائر ہونا موت آئیگی تو اُلٹ دیگی بساطِ دنیا…

گرے ہیں لفظ ورق پہ لہو لہو ہو کر

گرے ہیں لفظ ورق پہ لہو لہو ہو کر

گرے ہیں لفظ ورق پہ لہو لہو ہو کر محازِ زیست سے لوٹا ہوں سرخرو ہو کر اُسی کی دید کو اب رات دن تڑپتے ہی ہیں کہ جس سے بات نہ کی ہم نے دُوبدو ہو کر بجھا چراغ ہے دل…

کچھ ایسے خشک ہوتا جارہا ہوں

کچھ ایسے خشک ہوتا جارہا ہوں

کچھ ایسے خشک ہوتا جارہا ہوں زمیں خود میں سموتا جارہا ہوں کھلے گا اک گلِ خورشید دن کو ستارے شب میں بوتا جا رہا ہوں سفر کی اک نشانی بھی نہیں ہے کہ جو پاتا ہوں کھوتا جا رہا ہوں ملے…

طاق پر جزدان میں لپٹی دُعائیں رہ گئیں

طاق پر جزدان میں لپٹی دُعائیں رہ گئیں

طاق پر جزدان میں لپٹی دُعائیں رہ گئیں چل دیے سفر پر گھر میں مائیں رہ گئیں ہو گیا خالی نگر بلوائیوں کے خوف سے آنگنوں میں گھومتی پھرتی ہوائیں رہ گئیں درمیاں تو جو بھی کچھ تھا اسکو وسعت کھا گئی…

اس قدر بھی تو نہ جذبات پہ قابو رکھو

اس قدر بھی تو نہ جذبات پہ قابو رکھو

اس قدر بھی تو نہ جذبات پہ قابو رکھو تھک گئے ہو تو مرے کاندھے پہ بازو رکھو بھولنے پائے نہ اُس دشت کو وحشت دل سے شہر کے بیچ رہو باغ میں آہو رکھو خشک ہو جائے گی روتے ہوئے صحرا…

ہلے مکاں نہ سفر میں کوئی مکیں دیکھا

ہلے مکاں نہ سفر میں کوئی مکیں دیکھا

ہلے مکاں نہ سفر میں کوئی مکیں دیکھا جہاں پہ چھوڑ گئے تھے اُسے وہیں دیکھا کٹی ہے عمر کسی آبدوز میں سفر تمام ہوا اور کچھ نہیں دیکھا کِھلا ہے پھول کوئی تو اُجاڑ بستی میں مکانِ دل میں کہیں تو…

خواب اور حقیقت

خواب اور حقیقت

مجھے اچانک نظر وہ آئی! میں چُپ رہا پر کچھ اس طرح سے مرے پریشاں سوال اُبھرے تمام سوئے خیال اُبھرے تڑپتی جانوں کو جیسے لے کر کسی مچھیرے کا جال اُبھرے سمجھ نہ پایا کہ کیا کروں میں قدم بڑھائوں کہ…

گھر عطا کر مکاں سے کیا حاصل

گھر عطا کر مکاں سے کیا حاصل

گھر عطا کر مکاں سے کیا حاصل صرف وہم و گماں سے کیا حاصل بے یقینی ہی بے یقینی ہے ! ایسے ارض و سماں سے کیا حاصل سوچ آگے بڑھے تو بات بنے صرف عمرِ رواں سے کیا حاصل آفتِ ناگہاں…

یہ زمینی بھی زمانی بھی

یہ زمینی بھی زمانی بھی

یہ زمینی بھی زمانی بھی فطرتِ عشق آسمانی بھی شرط ہے جاں سے جائے پہلے ہے عجب عمرِ جاودانی بھی تم نے جو داستان سنائی ہے ہے وہی تو مری کہانی بھی کتنے دلچسپ لگنے لگتے ہیں! میرے قصّے تری زبانی بھی…

تو جو چاہے بھی تو صیّاد نہیں ہونے کے

تو جو چاہے بھی تو صیّاد نہیں ہونے کے

تو جو چاہے بھی تو صیّاد نہیں ہونے کے لب ہمارے لبِ فریاد نہیں ہونے کے کوئی اچھی بھی خبر کان میں آئے یا ربّ ایسی خبروں سے تو دل شاد نہیں ہونے کے تو رہے ہم سے خفا کتنا ہی چاہے…

اِن عقیدوں کے ، نصب کے، نام کے

اِن عقیدوں کے ، نصب کے، نام کے

اِن عقیدوں کے ، نصب کے، نام کے ” ختم ہوں جھگڑے یہ صبح و شام کے ” یہ ملوکیت، یہ سب دہشت گردی اور سب تلے اسلام کے بے اثر ہیں اُن پہ سب اسم و سحر وہ جو عاشق ہیں…

ثبات وہم ہے یارو، بقا کسی کی نہیں

ثبات وہم ہے یارو، بقا کسی کی نہیں

ثبات وہم ہے یارو، بقا کسی کی نہیں ”چراغ سب کے بجھیں گے ہوا کسی کی نہیں” کرو نہ گلشن ہستی اس کے لیے نہ ہاتھ آئے گی یارو، صبا کسی کی نہیں زمانہ گزرا کہ دل پر ہوئی تھی اک دستک…

بزم میں تیرے نہ ہونے کا سوال آیا بہت

بزم میں تیرے نہ ہونے کا سوال آیا بہت

بزم میں تیرے نہ ہونے کا سوال آیا بہت تو نہیں تھا آج تو تیرا خیال آیا بہت دیکھتے ہی دیکھتے شاہوں کی شاہی چھن گئی باکمالوں پر زمانے میں زوال آیا بہت جہل کے سائے میں گہری نیند ہم سوتے رہے…

نہاں فنا میں بقا ہے، ذرا سنبھل کے چلو

نہاں فنا میں بقا ہے، ذرا سنبھل کے چلو

نہاں فنا میں بقا ہے، ذرا سنبھل کے چلو یہ خاک خاکِ شفا ہے ذرا سنبھل کے چلو ہر ایک ذہن میں اندیشہ ہائے دور دراز ہر ایک لب پہ صدا ہے، ذرا سنبھل کے چلو ہیں اس کی خاک کے پردے…