اٹھو تاریک راتوں سے کوئی سورج نکالیں ہم

اٹھو تاریک راتوں سے کوئی سورج نکالیں ہم

چلو کچھ خاب پھر سے اپنی آنکھوں میں سجا لیں ہم تمہارا خوبصورت چہرہ آنکھوں میں بسا لیں ہم کئی وعدے ابھی باقی ہیں جو ہم کو نبھانے ہیں ابھی بھی وقت ہے ساری وفاؤں کو نبھا لیں ہم بہت رنجور ہیں…

محبت میں خسارے کا سدا امکان رہتا ہے

محبت میں خسارے کا سدا امکان رہتا ہے

محبت میں خسارے کا سدا امکان رہتا ہے رہِ غم کے اشارے کا سدا امکان رہتا ہے محبت میں خسارے کا سدا امکان رہتا ہے غمِ دوراں سے بوجھل ہو گئیں سانسیں مگر اب بھی ہمیں تیرے سہارے کا سدا امکان رہتا…

آنکھیں اُٹھا کہ قافلہ سالار ہم ہوئے

آنکھیں اُٹھا کہ قافلہ سالار ہم ہوئے

آنکھیں اُٹھا کہ قافلہ سالار ہم ہوئے اقرارِ خاص و عام میں انکار ہم ہوئے ظلم و جبر سے برسرِ پیکار ہم ہوئے ہم کو بتا اے شہر کے فرماں روا ذرا کس وقت تیرے حاشیہ بردار ہم ہوئے ہونٹوں پہ انقلاب…

گناہ گارِ وفا ہیں سزا بحال رہے

گناہ گارِ وفا ہیں سزا بحال رہے

گناہ گارِ وفا ہیں سزا بحال رہے سفر کٹھن ہے بڑا حوصلہ بحال رہے یہ وحشتوں کا حسیں مشغلہ بحال رہے زمانے تجھ کو ہے جو ناگوار صدیوں سے میرے سخن کا وہی ذائقہ بحال رہے بغاوتوں کے یہ موسم دہائی دیتے…

پکی ہے فصل سروں کی کٹائے دیتے ہیں

پکی ہے فصل سروں کی کٹائے دیتے ہیں

پکی ہے فصل سروں کی کٹائے دیتے ہیں بہ فیضِ عشق و جنوں لب ہِلائے دیتے ہیں لو آج جھگڑے مٹا کر عروج و پستی کے ہم اس زمیں کو فلک سے ملائے دیتے ہیں اُگیں گے موسمِ صد رنگ راکھ سے…

اپنی تصویر ڈھونڈتا ہوں میں

اپنی تصویر ڈھونڈتا ہوں میں

اپنی تصویر ڈھونڈتا ہوں میں سو رہا ہوں نہ جاگتا ہوں میں کِس اذیت کو جھیلتا ہوں میں ساری دنیا سے بے خبر ہوکر تیرے بارے میں سوچتا ہوں میں جانے کس جرمِ بے گناہی میں اب بھی سولی پہ جھولتا ہوں…

ماں

ماں

میں ہوں اِک موج تُو کنارا ہے تیری قُربت ہی اب سہارا ہے یہ تیرے میرے بیچ کارشتہ ماں مجھے جان سے بھی پیارا ہے زندگی کی اداس راہوں میں میں نے اکثر تجھے پکارا ہے تیرے ہونٹوں کا لمس ماتھے پہ…

یادیں خوبصورت ہوتی ہیں

یادیں خوبصورت ہوتی ہیں

آئو کے دل کو کچھ بہلائیں ان وحشتوں سے کہیں دور لے جائیں چلو پرانے محلے کی سیر کر آئیں سلام کریں سب کو اور دیکھ دیکھ مسکرائیں جہاں گلی کے کونے پر یونہی گھنٹوں گزر جائیں نا کوئی موبائل کی گھنٹی…

برس رہی ہیں نشیمن پہ بجلیاں لوگو

برس رہی ہیں نشیمن پہ بجلیاں لوگو

اگرچہ چاہتے ہو تم بلندیاں لوگو ذرا حساب کرو اپنی پستیاں لوگو تمہاری بستی میں امن و اماں کی قلت ہو تم اپنے پاس رکھو اپنی بستیاں لوگو ذرا سا سوچ کو بدلو تو کامراں ہوں گے وگر نہ محنتیں ہوجائیں رائگاں…

وقت کیساتھ ساتھ مسکرانا بھول گیا ہوں

وقت کیساتھ ساتھ مسکرانا بھول گیا ہوں

وقت کیساتھ ساتھ مسکرانا بھول گیا ہوں شائد اس کو یاد جو آنا بھول گیا ہوں یہ بات بھی اسکو بتانا بھول گیا ہوں اب میں روٹھنا منانا بھول گیا ہوں زمانے بیت گئے ہوں خود سے ملاقات کئے بھیج کر کہیں…

ماں باپ کا  کچا مکاں مسمار بہت ہے

ماں باپ کا کچا مکاں مسمار بہت ہے

ماں باپ کا کچا مکاں مسمار بہت ہے اس مٹی کی خوشبو سے مجھے پیار بہت ہے رہتے تھے بہن بھائی جو ماں باپ کے گھر میں اب کہتے ہیں ملنے کو تو تہوار بہت ہے ماں باپ بھی بٹ جاتے ہیں…

تو   زر دار بہت ہے

تو زر دار بہت ہے

اس شہر میں ہر شخص ہی بیزار بہت ہے یہ مان لیا میں نے تو زر دار بہت ہے کیوں تم نے دکھایا تھا مجھے پیار کا رستہ یہ بھی بتا دیتے کہ یہ پر خار بہت ہے ہر راستہ ہو سہل…

میں پوچھ تو لوں پاؤں کی زنجیر سے پہلے

میں پوچھ تو لوں پاؤں کی زنجیر سے پہلے

روتا ہے قلم اب مرا تحریر سے پہلے لکھتا ہوں میں اب شام کو کشمیر سے پہلے کب تلک رکھے گی مجھے مجبور بنا کر میں پوچھ تو لوں پاؤں کی زنجیر سے پہلے کرتا نہ تمنا کبھی اس پیار کی ہرگز…

آٹے کی چیڑیا

آٹے کی چیڑیا

پھر زندگی میں بہت خسارہ ہوا اور سارے کا سارا ہمارا ہوا ماں منوں مٹی تلے سو گئی اور آٹے کی چڑیا بھی کھو گئی انور جمال فاروقی…

چھوڑ جائیں گے

چھوڑ جائیں گے

تیرے اس شہر کے موسم سہانے چھوڑ جائیں گے نجانے کس گھڑی گزرے زمانے چھوڑ جائیں گے طلب ہوگی نہ پھر تجھ کو کسی حرف و حکایت کی تیرے ہونٹوں پہ ہم ایسے فسانے چھوڑ جائیں گے عَلم لے کر بغاوت کے…

تمھاری آنکھوں میں کانٹے ہونگے

تمھاری آنکھوں میں کانٹے ہونگے

ایک راستہ سمجھ کر، میں یہ کیا کر رہا تھا دن رات مشقت کر رہا تھا بڑھ بڑھ کر کانٹے چن رہا تھا مگر یہ کیا کہ یہاں توکانٹوں سے اٹی انگنت راہیں ہیں اور ان پر لگی انگنت آنکھیں ہیں انگنت…

یہ آگ وہ نہیں جسے پانی بجھا سکے

یہ آگ وہ نہیں جسے پانی بجھا سکے

اے کاش کوئی آئینہ ایسا بنا سکے لوگوں کو ان کا چہرہ جو اصلی دکھا سکے جھلسا رہی ہے جو مرے پورے وجود کو یہ آگ وہ نہیں جسے پانی بجھا سکے جس نے بھی ہاتھ تھاما کہیں اور لے چلا حسرت…

ہر آدمی کا جیسے خدا ہے علیحدہ

ہر آدمی کا جیسے خدا ہے علیحدہ

جو شخص زندگی سے ہوا ہے علیحدہ وہ مجھ کو مجھ سے کر کے گیا ہے علیحدہ سائے کو اپنے چھوڑ جیا ہے علیحدہ اپنی قبائے شوق سیا ہے علیحدہ دیکھا گیا نہ جس سے یہ نفرت بھرا جہاں اپنا ہی خون…

جھک کے تکنے لگا ہر ستارا مجھے

جھک کے تکنے لگا ہر ستارا مجھے

چھوڑ کر چل دیا بے سہارا مجھے دے گیا زندگی کا خسارہ مجھے شانوں پہ اس کے جب ہم نے سر رکھ دیا جھک کے تکنے لگا ہر ستارا مجھے خواب جو بھی تھے دیکھے تمہارے میں نے سب سے کرنا پڑا…

جا رہی ہے بہار آ جاؤ

جا رہی ہے بہار آ جاؤ

دل سے اٹھتا ہے اب غبار آ جاؤ جا رہی ہے بہار آ جاؤ بھول بیٹھا ہوں سارے غم اپنے لے کے تم اپنا جھوٹا پیار آ جاؤ دل کے اجڑے ہوئے چمن میں مرے پھر سے بن کے بہار آ جاؤ…

ذرا ماتم کیا جائے

ذرا ماتم کیا جائے

غمِ دنیا کے ماروں پر ذرا ماتم کیا جائے چلو ہم بے سہاروں پر ذرا ماتم کیا جائے جہاں ہرگام پہ مقتل سجے ہیں بے زبانی کے کبھی اُن رہگزاروں پر ذرا ماتم کیا جائے رہی ہر شاخ بے برگ و ثمر…

اچھا تمہارے شہر کا دستور  ہو گیا

اچھا تمہارے شہر کا دستور ہو گیا

چھوڑا جو اس نے میں بڑا رنجور ہو گیا یہ غم ہماری جان کا ناسور ہو گیا آئے جو تیرے شہر میں طوفان آگیا موسم بھی تیرے شہر کا مغرور ہو گیا اس نے دیا جو زخم محبت کے نام پر وہ…

نزع کے عالم میں خواب

نزع کے عالم میں خواب

موت کی طرح ٹھنڈی رات خاموشی کی غضب ناک سرسراہٹ ایسی تاریکی جیسے اندھے کی آنکھ میرے پاؤں بھاگنے لگے بھاگتے بھاگتے ایک کھنڈر میں داخل ہوگۓ جہاں کھوپڑیوں اور ہڈیوں کے چیخنے کی آوازیں گونج رہی تھیں میری آہیں اور سانسیں…

ساون

ساون

یہ موقعے زندگی میں آتے ہیں بہت کم رونے دو یہ ضبط کا نہیں ہے موسم نیل احمد…