چھوڑ جائیں گے

چھوڑ جائیں گے

تیرے اس شہر کے موسم سہانے چھوڑ جائیں گے نجانے کس گھڑی گزرے زمانے چھوڑ جائیں گے طلب ہوگی نہ پھر تجھ کو کسی حرف و حکایت کی تیرے ہونٹوں پہ ہم ایسے فسانے چھوڑ جائیں گے عَلم لے کر بغاوت کے…

تمھاری آنکھوں میں کانٹے ہونگے

تمھاری آنکھوں میں کانٹے ہونگے

ایک راستہ سمجھ کر، میں یہ کیا کر رہا تھا دن رات مشقت کر رہا تھا بڑھ بڑھ کر کانٹے چن رہا تھا مگر یہ کیا کہ یہاں توکانٹوں سے اٹی انگنت راہیں ہیں اور ان پر لگی انگنت آنکھیں ہیں انگنت…

یہ آگ وہ نہیں جسے پانی بجھا سکے

یہ آگ وہ نہیں جسے پانی بجھا سکے

اے کاش کوئی آئینہ ایسا بنا سکے لوگوں کو ان کا چہرہ جو اصلی دکھا سکے جھلسا رہی ہے جو مرے پورے وجود کو یہ آگ وہ نہیں جسے پانی بجھا سکے جس نے بھی ہاتھ تھاما کہیں اور لے چلا حسرت…

ہر آدمی کا جیسے خدا ہے علیحدہ

ہر آدمی کا جیسے خدا ہے علیحدہ

جو شخص زندگی سے ہوا ہے علیحدہ وہ مجھ کو مجھ سے کر کے گیا ہے علیحدہ سائے کو اپنے چھوڑ جیا ہے علیحدہ اپنی قبائے شوق سیا ہے علیحدہ دیکھا گیا نہ جس سے یہ نفرت بھرا جہاں اپنا ہی خون…

جھک کے تکنے لگا ہر ستارا مجھے

جھک کے تکنے لگا ہر ستارا مجھے

چھوڑ کر چل دیا بے سہارا مجھے دے گیا زندگی کا خسارہ مجھے شانوں پہ اس کے جب ہم نے سر رکھ دیا جھک کے تکنے لگا ہر ستارا مجھے خواب جو بھی تھے دیکھے تمہارے میں نے سب سے کرنا پڑا…

جا رہی ہے بہار آ جاؤ

جا رہی ہے بہار آ جاؤ

دل سے اٹھتا ہے اب غبار آ جاؤ جا رہی ہے بہار آ جاؤ بھول بیٹھا ہوں سارے غم اپنے لے کے تم اپنا جھوٹا پیار آ جاؤ دل کے اجڑے ہوئے چمن میں مرے پھر سے بن کے بہار آ جاؤ…

ذرا ماتم کیا جائے

ذرا ماتم کیا جائے

غمِ دنیا کے ماروں پر ذرا ماتم کیا جائے چلو ہم بے سہاروں پر ذرا ماتم کیا جائے جہاں ہرگام پہ مقتل سجے ہیں بے زبانی کے کبھی اُن رہگزاروں پر ذرا ماتم کیا جائے رہی ہر شاخ بے برگ و ثمر…

اچھا تمہارے شہر کا دستور  ہو گیا

اچھا تمہارے شہر کا دستور ہو گیا

چھوڑا جو اس نے میں بڑا رنجور ہو گیا یہ غم ہماری جان کا ناسور ہو گیا آئے جو تیرے شہر میں طوفان آگیا موسم بھی تیرے شہر کا مغرور ہو گیا اس نے دیا جو زخم محبت کے نام پر وہ…

نزع کے عالم میں خواب

نزع کے عالم میں خواب

موت کی طرح ٹھنڈی رات خاموشی کی غضب ناک سرسراہٹ ایسی تاریکی جیسے اندھے کی آنکھ میرے پاؤں بھاگنے لگے بھاگتے بھاگتے ایک کھنڈر میں داخل ہوگۓ جہاں کھوپڑیوں اور ہڈیوں کے چیخنے کی آوازیں گونج رہی تھیں میری آہیں اور سانسیں…

ساون

ساون

یہ موقعے زندگی میں آتے ہیں بہت کم رونے دو یہ ضبط کا نہیں ہے موسم نیل احمد…

میرا کیا ہو گا

میرا کیا ہو گا

میں نے مجھے تیرے لیے گروی رکھا تو مجھے چھوڑ گیا تو میرا کیا ہو گا نیل احمد…

میں

میں

میری نظمیں مجھے تخلیق کرتی ہیں میں خود کو مکمل کرنے کے لیے لکھتی ہوں نیل احمد…

ویران اندر سے کر رہا ہے کوئی

ویران اندر سے کر رہا ہے کوئی

ویران اندر سے کر رہا ہے کوئی مجھ سا مجھ میں اتر رہا ہے کوئی وقت سا تحلیل ہوا چاہتا ہے خاموش جان سے گزر رہا ہے کوئی ساتھ چلنے کا وعدہ تو کر لیا تھا سفر طویل دیکھ کر مکر رہا…

محبت اک عبادت ہے

محبت اک عبادت ہے

محبت اک عبادت ہے عبادت میں تصنع سے خدا بھی روٹھ جاتا ہے نمائش اور دکھاوے سے تعلق ٹوٹ جاتا ہے محبت اور عبادت میں نمائش ہو نہیں سکتی محبت اک عبادت ہے عبادت کے لیے بہتر ہے تنہائی کا عالم ہو…

میں سرِ دار بھی ہوں کتنی بلندی پہ یہ دیکھ

میں سرِ دار بھی ہوں کتنی بلندی پہ یہ دیکھ

میں سرِ دار بھی ہوں کتنی بلندی پہ یہ دیکھ جب بھی دیکھا ہے وہی گھور اندھیرا نکلا جانے کس سمت محبت کا ستارا نکلا ہم کو جس عہد میں جینا تھا بغاوت کے لئے اُس میں ہر شخص روایات کا شیدا…

سانسوں کو تیرے نام کی گردان کیا جائے

سانسوں کو تیرے نام کی گردان کیا جائے

سانسوں کو تیرے نام کی گردان کیا جائے چپکے سے کسی روز تو مہمان کیا جائے آجا کہ کبھی پورا یہ ارمان کیا جائے اِک شام تیرے وصل کی دنیا سے چُرا کر یادوں کی گزرگاہوں کو آسان کیا جائے ہونٹوں پہ…

پڑ گئی ہم کو تیری یاد کی عادت لکھنا

پڑ گئی ہم کو تیری یاد کی عادت لکھنا

پڑ گئی ہم کو تیری یاد کی عادت لکھنا جب بھی لکھنا تو یہی رنج و مسرت لکھنا پڑ گئی ہم کو تیری یاد کی عادت لکھنا یہ تیری ہم سے شب و روز تغافل کی روش عین ممکن ہے کوئی ڈھائے…

ڈھونڈتے ہیں چارہ گر دردِ لادوا لے کر

ڈھونڈتے ہیں چارہ گر دردِ لادوا لے کر

ڈھونڈتے ہیں چارہ گر دردِ لادوا لے کر اپنی بد نصیبی کا کوئی تذکرہ لے کر اب کبھی نہ آئیں گے حرفِ التجا لے کر ہم نے تیری محفل میں وہ سماں بھی دیکھا ہے آئے تھے جزا پانے چل دِیے سزا…

اے وادی کشمیر

اے وادی کشمیر

صبح آزادی کو ترستی ہوئی وادی کشمیر نقشہ عالم پہ ہے تو لاچاری کی تصویر اے وادی کشمیر تیرے پہاڑوں نے اٹھا رکھا ہے اسلام کا جھنڈا کفر دبا نہ سکا کبھی بھی تیرا نعراہ تکبیر اے وادی کشمیر نہ بنا سکا…

پاس رہ کے بھی فاصلہ دیکھا

پاس رہ کے بھی فاصلہ دیکھا

پاس رہ کے بھی فاصلہ دیکھا ہم نے کیسا یہ ماجرا دیکھا پاس رہ کے بھی فاصلہ دیکھا اک دیا آج بھی سرِ مژِگاں جو جلایا تو نہ بجھا دیکھا راستوں کے غبار میں کس نے کب مسافر کوئی پڑا دیکھا جس…

روز کرتا ہے سوگوار ہمیں

روز کرتا ہے سوگوار ہمیں

روز کرتا ہے سوگوار ہمیں جو رلاتا ہے زار زار ہمیں اس پہ کتنا تھا اعتبار ہمیں کب کسی مرتبے کی خواہش ہے اپنے قدموں میں کر شمار ہمیں جس کا ملبوسِ جسم و جاں ٹھہرے آ کے دیکھے تو تار تار…

کہیں چلے جائو

کہیں چلے جائو

زمین کتنی بڑی ہے کہیں چلے جائو یہ ہجرتوں کی گھڑی ہے کہیں چلے جائو تجھے بھروسا ہے جس شخص کی رفاقت پر اُسے تو اپنی پڑی ہے کہیں چلے جائو وہ شکل جس سے جدائی محال ہے دل میں نگینہ بن…

ایک صدا سی کانوں میں گونجتی رہتی ہے

ایک صدا سی کانوں میں گونجتی رہتی ہے

ایک صدا سی کانوں میں گونجتی رہتی ہے جیسے ہر کسی سے پتہ میرا پوچھتی رہتی ہے آنکھوں میں اسکی کوئی منظر جم گیا ہو جیسے میرے ساتھ ہو کر بھی مجھے ڈھونڈتی رہتی ہے وہ جیسے مجھے پہچانتی ہے مجھ سے…

حیرت ہے کہ ہر آدمی ناکام بہت ہے

حیرت ہے کہ ہر آدمی ناکام بہت ہے

افکار میں یہ شعلئہ گلفام بہت ہے آشفتہ سرِ دل مِرا بدنام بہت ہے جنبش تو شب و روز کیا کرتا ہے لیکن حیرت ہے کہ ہر آدمی ناکام بہت ہے اب وصل کی چاہت ہے نہ دیدار کی حسرت میرے دلِ…