نام تیرا بھی ہے  کہانی میں

نام تیرا بھی ہے کہانی میں

اب کے ان اشکوں کی روانی میں بہہ گئے سارے خواب پانی میں ہجر میں تیرے اب بھی زندہ ہیں لوگ مر جاتے ہیں جوانی میں درد سے واسطہ پرانا ہے ان کو پالا ہے نو جوانی میں روگ ایسا لگا جوانی…

بہت تھک گیا ہوں خطا کرتے کرتے

بہت تھک گیا ہوں خطا کرتے کرتے

بہت تھک گیا ہوں خطا کرتے کرتے مدینے میں جاؤں حیا کرتے کرتے درودوں کی مالا پروتا میں جاؤں ثنا پڑھتے پڑھتے دعا کرتے کرتے حق انسانیت کا ادا کرتے کرتے گذاری عمر شکر خدا کرتے کرتے دیا زخم جس نے بھی…

سجدے میں پڑے کرتے رہیں شکر خدا کا

سجدے میں پڑے کرتے رہیں شکر خدا کا

سجدے میں پڑے کرتے رہیں شکر خدا کا امت ہیں ہم اس کی جو ہے محبوب خدا کا الفاظ کے موتی یوں مری نعت میں آئیں آ جائے سلیقہ مجھے بھی حمد و ثنا کا آئے جو بلاوا مجھے دربارِ نبی کا…

کوئی مشعل جلے روشنی کے لئے

کوئی مشعل جلے روشنی کے لئے

کوئی مشعل جلے روشنی کے لئے زندگی کے دکھوں میں کمی کے لئے آئو مل کر چلیں دوستی کے لئے اپنی اپنی انائوں کے بت توڑ کر وقف خود کو کریں عاجزی کے لئے شب گزیدوں کے ارمان مت پوچھئے کوئی مشعل…

آپ ہوتے ہیں جہاں عشق وہاں ہوتا ہے

آپ ہوتے ہیں جہاں عشق وہاں ہوتا ہے

آپ ہوتے ہیں جہاں عشق وہاں ہوتا ہے آپ کے چہرے پہ وہ نور عیاں ہوتا ہے چاند اترا ہو زمیں پر یہ گماں ہوتا ہے مصطفٰی آپ کی حرمت پہ ہو مری جاں قربان آپ ہوتے ہیں جہاں عشق وہاں ہوتا…

حسن محمد ﷺ کا عیاں ہوتا ہے

حسن محمد ﷺ کا عیاں ہوتا ہے

حسن محمد ﷺ کا عیاں ہوتا ہے سارے عالم میں درودوں کا بیاں ہوتا ہے دنیا میں حسن محمد ﷺ کا عیاں ہوتا ہے ایک ہو جائیں جو عالم میں مسلماں سارے ختم ملعون کا پھر نام نشاں ہوتا ہے ارشیؔ…

اسے گلے سے لگائے زمانہ ہو گیا ہے

اسے گلے سے لگائے زمانہ ہو گیا ہے

اسے گلے سے لگائے زمانہ ہو گیا ہے نہ جانے اب کہاں اس کا ٹھکانہ ہو گیا ہے اسے دیدار کرائے زمانہ ہو گیا ہے قرار آئے گا کیسے ملے بغیر اسے اسے گلے سے لگائے زمانہ ہو گیا ہے ابھی تو…

اے میرے پاکستان

اے میرے پاکستان

اے میرے پاکستان اے میرے گلستان نئی صبح ہے جو اب کے آئی نئے گلوں کا پیام لے کر جن کی خوشبو سے مہکے عالم بہار آئے سلام لے کر اے میری جانِ جاں اے میرے پاکستان میرے جوانوں کی ہمتوں میں…

نیک جو راہ ہو اس رہ پہ چلانا مجھ کو

نیک جو راہ ہو اس رہ پہ چلانا مجھ کو

اب نہ کر چھوڑنا اور روز بلانا مجھ کو کیا ضروری ہے ترا روز رلانا مجھ کو لوگ مصروف ہیں اب یاد رکھیں گے کیا کیا بھول جائے گا کسی روز زمانہ مجھ کو اب میں جو بچھڑا تو شاید نہ کبھی…

کچھ رتجگے تھے جن کی ضرورت نہیں رہی

کچھ رتجگے تھے جن کی ضرورت نہیں رہی

کچھ رتجگے تھے جن کی ضرورت نہیں رہی ان سے پھر اپنی کوئی رفاقت نہیں رہی شاید اسے ہماری بھی حاجت نہیں رہی کچھ خواب تھے جو میرے وہ سارے بکھر گئے کچھ رتجگے تھے جن کی ضرورت نہیں رہی کہتی تھی…

یہ قوم اب تمہاری وراثت نہیں رہی

یہ قوم اب تمہاری وراثت نہیں رہی

جس قوم کو ترقی کی حاجت نہیں رہی دنیا کو ان کی کوئی ضرورت نہیں رہی کچھ تو زمانے کا اثر ان پر بھی ہوا ہے پہلے سی بچوں میں وہ شرارت نہیں رہی محنت سے جی چرانے لگے لوگ اب یہاں…

الیکشن 2018

الیکشن 2018

الیکشن دیہاڑے عجب نظارے ویکھے چھِترو چھِتری ہُندے ووٹر بیچارے ویکھے بھُل گئی عزت ووٹراں دی تبدیلی دے ایسے آثارے ویکھے پین دی سری کر دے کئی اُتے تھلے ہُندے شمارے ویکھے ووٹ نئیں لبھیا کسے دا پاگلاں وانگ پِھر دے خوارے…

اس کے ہاتھوں سے جو خوشبوئے حنا آتی ہے

اس کے ہاتھوں سے جو خوشبوئے حنا آتی ہے

دل کے ویرانے سے اکثر یہ ندا آتی ہے پوچھ اس سے کہ مری یاد بتا آتی ہے ساری محفل کو وہ مسحور بنا جاتی ہے اس کے ہاتھوں سے جو خوشبوئے حنا آتی ہے کل جو کہتے تھے مری آنکھ کا…

جو بھولنا تھا مجھ کو وہی یاد رہ گیا

جو بھولنا تھا مجھ کو وہی یاد رہ گیا

میں سمجھا اس کو اپنا سو برباد رہ گیا وہ کسی اور کا تھا سو آباد رہ گیا کتنا عجیب شخص تھا جو مل کے ایک بار کر کے مجھے تباہ خود آباد رہ گیا چلا گیا وہ سارے مرے خواب توڑ…

چھپ کے تنہائی میں کچھ اشک بہالے تو بھی

چھپ کے تنہائی میں کچھ اشک بہالے تو بھی

اپنی آنکھوں میں نئے خواب سجا لے تو بھی اب نہ دے مجھ کو محبت کے حوالے تو بھی میں بھی سینے میں لیئے زخم سدا ہنستا رہا آنکھ میں اشک جو آئیں تو چھپا لے تو بھی اس سرِ عام تماشے…

یہ دل کا معاملہ ہے کوئی دل لگی نہیں

یہ دل کا معاملہ ہے کوئی دل لگی نہیں

یہ داستاں ہے میری کوئی دل کشی نہیں میری ہے آپ بیتی مگر آخری نہیں دنیا کو شوق تھا کے کہانی سنے مری ہم نے جو کی شروع کسی نے سنی نہیں تو بھی اپنے روز بدلے رویے کو دیکھ لے یہ…

ہم اور کانچ کا گلدان

ہم اور کانچ کا گلدان

کمرے کی میز پر رکھا ہوا کانچ کا اک خوبصورت گلدان ادھ کھلی کھڑکی سے آنے والے ہواکے تیز جھونکے کی زد میں آکر گلدان کا میز پر سے گرنا ایک چھنناکے کی آواز کا ابھرنا کانچ کا فرش پر بکھرنا ان…

اٹھو تاریک راتوں سے کوئی سورج نکالیں ہم

اٹھو تاریک راتوں سے کوئی سورج نکالیں ہم

چلو کچھ خاب پھر سے اپنی آنکھوں میں سجا لیں ہم تمہارا خوبصورت چہرہ آنکھوں میں بسا لیں ہم کئی وعدے ابھی باقی ہیں جو ہم کو نبھانے ہیں ابھی بھی وقت ہے ساری وفاؤں کو نبھا لیں ہم بہت رنجور ہیں…

محبت میں خسارے کا سدا امکان رہتا ہے

محبت میں خسارے کا سدا امکان رہتا ہے

محبت میں خسارے کا سدا امکان رہتا ہے رہِ غم کے اشارے کا سدا امکان رہتا ہے محبت میں خسارے کا سدا امکان رہتا ہے غمِ دوراں سے بوجھل ہو گئیں سانسیں مگر اب بھی ہمیں تیرے سہارے کا سدا امکان رہتا…

آنکھیں اُٹھا کہ قافلہ سالار ہم ہوئے

آنکھیں اُٹھا کہ قافلہ سالار ہم ہوئے

آنکھیں اُٹھا کہ قافلہ سالار ہم ہوئے اقرارِ خاص و عام میں انکار ہم ہوئے ظلم و جبر سے برسرِ پیکار ہم ہوئے ہم کو بتا اے شہر کے فرماں روا ذرا کس وقت تیرے حاشیہ بردار ہم ہوئے ہونٹوں پہ انقلاب…

گناہ گارِ وفا ہیں سزا بحال رہے

گناہ گارِ وفا ہیں سزا بحال رہے

گناہ گارِ وفا ہیں سزا بحال رہے سفر کٹھن ہے بڑا حوصلہ بحال رہے یہ وحشتوں کا حسیں مشغلہ بحال رہے زمانے تجھ کو ہے جو ناگوار صدیوں سے میرے سخن کا وہی ذائقہ بحال رہے بغاوتوں کے یہ موسم دہائی دیتے…

پکی ہے فصل سروں کی کٹائے دیتے ہیں

پکی ہے فصل سروں کی کٹائے دیتے ہیں

پکی ہے فصل سروں کی کٹائے دیتے ہیں بہ فیضِ عشق و جنوں لب ہِلائے دیتے ہیں لو آج جھگڑے مٹا کر عروج و پستی کے ہم اس زمیں کو فلک سے ملائے دیتے ہیں اُگیں گے موسمِ صد رنگ راکھ سے…

اپنی تصویر ڈھونڈتا ہوں میں

اپنی تصویر ڈھونڈتا ہوں میں

اپنی تصویر ڈھونڈتا ہوں میں سو رہا ہوں نہ جاگتا ہوں میں کِس اذیت کو جھیلتا ہوں میں ساری دنیا سے بے خبر ہوکر تیرے بارے میں سوچتا ہوں میں جانے کس جرمِ بے گناہی میں اب بھی سولی پہ جھولتا ہوں…

ماں

ماں

میں ہوں اِک موج تُو کنارا ہے تیری قُربت ہی اب سہارا ہے یہ تیرے میرے بیچ کارشتہ ماں مجھے جان سے بھی پیارا ہے زندگی کی اداس راہوں میں میں نے اکثر تجھے پکارا ہے تیرے ہونٹوں کا لمس ماتھے پہ…