برسلز: امریکہ کو مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اپنا کردار ضرور ادا کرنا چاہیے، علی رضا سید

Ali Raza Syed

Ali Raza Syed

برسلز (پ۔ر) جنوبی ایشیاء کے امن و ترقی کے لیے مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل ضروری ہے اور امریکہ کو اس مسئلے کے حل کے لیے اپنا اہم کردار ضرور ادا کرنا چاہیے۔

یہ بات کشمیر کونسل یورپ (ای یو) کے چیئرمین علی رضا سید نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کا خیرمقدم کرتے ہوئے اپنے ایک بیان میں کہی۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز پاکستان کے وزیراعظم عمران خان سے وائیٹ ہاؤس میں ملاقات کے دوران بھارت اور پاکستان کے درمیان کشمیر کے دیرینہ تنازع کو حل کرنے میں اپنا کردار ادا کرنے کی پیشکش کی ہے۔

برسلز سے جاری ہونے والے بیان میں چیئرمین کشمیرکونسل ای یو علی رضاسید نے کہاکہ یہ پیشکش بہت اہم ہے۔ مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کے لیے امریکہ کو ضرور اپنا اثرورسوخ استعمال کرناچاہیے۔ ہم امریکہ صدر سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنی پیشکش پر عمل کرتے ہوئے بھارتی حکام کو بات چیت کے ذریعے تنازعہ کشمیرکے حل کے لیے آمادہ کریں۔ اگرجنوبی ایشیاء میں امن قائم ہوجاتاہے تو یہ خطہ ترقی کرے گا اور بیرون سرمایہ کاری کو بھی تحفظ حاصل ہوگا۔ امریکہ سمیت عالمی طاقتوں کو معلوم ہے کہ خطے میں امن اور ترقی مسئلہ کشمیرکے پرامن حل کے بغیر ممکن نہیں۔

عالمی برادری کو اس بات پر بھی توجہ دینی چاہیے کہ بھارت اپنی سات لاکھ فوج کے ذریعے کشمیریوں پر مظالم ڈھارہاہے۔ انھوں نے کہاکہ امریکہ انسانی حقوق کا عملبردار ہونے کا دعویدار ہے اوراسے چاہیے کہ وہ اس خطے کے امن کے لیے سنجیدہ کوشش کرے اور بھارت کو کشمیریوں پر مظالم سے روکے ۔کشمیری اپنے حق خودارادیت کے لیے جدوجہد کررہے ہیں جس کا بھارت نے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں میں وعدہ کیاگیاتھا۔ مسئلہ کشمیرکا اصل حل یہ ہے کہ کشمیر میں اقوام متحدہ کے ذریعے رائے شماری کرائے جس کے دوران کشمیری عوام اپنے مستقبل کا خود فیصلہ کریں۔

انھوں نے کہاکہ بھارت ہرقسم کے ہتھکنڈے استعمال کرکے کشمیری عوام پر اپنی فوج کے تشدد اور وحشیانہ مظالم پر پردہ ڈالناچاہتا ہے اور دنیا کویہ تاثردیناچاہتاہے کہ جموں و کشمیرمیں امن ہے اورجمہوریت ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیرمیں کالے قوانین نافذ کررکھے ہیں جن کے ذریعے بھارتی سیکورٹی فورسز کسی بھی شخص کو بغیروجہ بتائے قید کرسکتی ہیں اور تشدد کا نشانہ بناسکتی ہیں۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں اور بین الاقوامی مبصرین کو مقبوضہ کشمیر جانے کی اجازت نہیں۔ آج کشمیری نوجوانوں سمیت مقبوضہ کشمیرکا ہرفرد ظلم کی چکی میں پس رہاہے۔ بڑی تعداد میں لوگ لاپتہ ہوچکے ہیں۔ حالیہ سالوں کے دوران بہت سے نوجوانوں کو جعلی مقابلوں میں مارکر گمنام قبروں میں دفن کیاگیاہے۔امریکہ اور دیگر عالمی طاقتوں اورانسانی حقوق کے عالمی اداروں کو ان واقعات اور مظالم کا نوٹس لیناہوگا۔

مسئلہ کشمیرکے حل کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ پہلے مرحلے میں مقبوضہ کشمیرسے بھارتی فوجیں واپس بلائی جائیں تاکہ مسئلہ کے حل کی راہ ہموار ہوسکے اور کشمیری نارمل زندگی سے گزار سکیں۔دوسرے مرحلے میں مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کے لیے عالمی سطح پر کوشش کی جائیں جن میں امریکہ سمیت عالمی طاقتیں اپنا کردار ادا کریں۔