بلجیم میں کشمیریوں سے یکجہتی کے لیے شمعیں روشن کی گئیں، بڑی تعداد میں لوگ شریک ہوئے

Solidarity - Kashmir - Brussels

Solidarity – Kashmir – Brussels

برسلز (پ۔ر) بلجیم کے دارالحکومت برسلز میں مظاہرین نے موم بتیاں جلا کر کشمیریوں کے ساتھ ہمدردی اور یکجہتی کااظہار کیا۔ مظاہرے کا اہتمام کشمیر کونسل ای یو نے یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر چار فروری کی شام کو برسلز کے مرکزی ریلوے اسٹیشن کے سامنے کیا جس میں بڑی تعداد میں زندگی کے ہرطبقے اور مختلف این جی اوز کے نمائندوں نے شرکت کی۔ مظاہرین نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر بھارتی مظالم کے خلاف اور کشمیریوں کی حمایت میں نعرے درج تھے۔ مظاہرین جن کی قیادت کشمیرکونسل ای یو کے سینئر عہدیدار چوہدری خالد محمود جوشی کررہے تھے، نے مقبوضہ کشمیرکے مظلوم عوام سے اظہار یکجہتی کے لیے ہاتھوں کی زنجیر بھی بنائی۔

مظاہرے میں شریک اہم شخصیات میں میرشاجہان، چوہدری جاوید، شیخ ماجد، سلیم میمن، کنتھ رائے، شمیم شاہ، مہرندیم، راجہ قیوم، ملک اختر اور اشتیاق احمد بھی شامل تھے۔

اس موقع پر مقررین نے کہاکہ ہم مسئلہ کشمیرکے منطقی اور منصفانہ حل تک کشمیر کی جدوجہد آزادی کی حمایت جاری رکھیں گے اور مقبوضہ کشمیرکے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہارکرتے رہیں گے۔ انھوں نے بھارتی مظالم کی مذمت کی اور مقبوضہ میں گذشتہ چند عشروں کے دوران شہید ہونے ایک لاکھ سے زائد کشمیریوں کے لواحقین کے ساتھ گہری ہمدردی ظاہرکی۔ انھوں نے کہاکہ کشمیر میں اقوام متحدہ کے ذریعے رائے شماری کرائی جائے جس میں حصہ لے کر کشمیری عوام اپنے مستقبل کا خود فیصلہ کریں۔

دراین اثنا چیئرمین کشمیرکونسل ای یو علی رضا سید نے یوم یکجہتی کشمیر پر اپنے ایک بیان میں کہاہے کہ ہم مقبوضہ کشمیرکے مظلوموں کی حمایت جاری رکھیں گے۔ کشمیری عوام اپنے حق خودارادیت کے لیے پرامن جدوجہد کررہے ہیں۔ بھارت مقبوضہ کشمیرمیں کشمیری عوام پر اپنی فوج کی طرف سے ہونے والے تشدد اور مظالم پر پردہ ڈالناچاہتا ہے اور یہ تاثر دینا چاہتاہے کہ جموں و کشمیرمیں امن ہے اورجمہوری عمل جاری ہے۔

جبکہ حقیقت یہ ہے کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیرمیں کالے قوانین نافذ کررکھے ہیں جن کے ذریعے بھارتی سیکورٹی فورسز کسی بھی شخص کو بغیروجہ بتائے قید کرسکتی ہیں اورسنگین تشدد کا نشانہ بناسکتی ہیں۔ اسطرح کے وحشیانہ تشدد کی وجہ سے ابتک بڑی تعداد میں لوگ ماورائے عدالت شہید ہوچکے ہیں۔ چیئرمین کشمیرکونسل ای یو نے اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنا اثرورسوخ استعمال کرکے مسئلہ کشمیر کے مناسب اورپرامن حل کا راستہ نکال لیں اور کشمیریوں کا ان کا حق خودارادیت دلوائیں جس کا ان سے وعدہ کیا گیا تھا۔

۔ انھوں نے خاص طورپر یورپی یونین سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔