شرپسند عناصر کے خلاف احتجاج مسلم کیمونٹیز کی مشاورت سے ہو گا

ایتھنز(نمائندہ خصوصی)ستمبر کے مہینے میں آئیونارغیورو،الیون اور انالوسیا کے علاقوں میں واقع مختلف مساجد کے باہربعض شرپسند عناصر کی طرف سے گستاخانہ خاکے اور شرانگیز لٹریچر پھینکنے کی ناپاک جسارت کے خلاف گذشتہ ماہ  یونان میں قیام پذیر مسلم کیمونٹیز کے اتفاق رائے سے مسلم پیس ایسوسی ایشن کا قیام عمل میں لایا گیا تھا جس میں پاکستان کیمونٹی کی نمائندہ گیارہ رکنی کمیٹی کے اراکین بھی شامل ہیں،گذشتہ اتوار کو مسلم پیس ایسوسی ایشن کے اراکین نے پاکستانی پریس کو بریفنگ دیتے ہوئے آگاہ کیا کہ ایک ماہ میں پیس ایسوسی اشن کے طویل دورانیوں کے9اجلاس ہوئے جن لائحہ عمل کے مطابق مسلم ممالک کے سفارت خانوں اور مقامی انتظامیہ کے ذمہ داران سے رابطے کر کے انھیں  یونان میں مقیم مسلمانوں کی  بے چینی اور ناراضگی سے آگاہ کرتے ہوئے شرپسند عناصر کے خلاف راست اقدامات کا مطالبہ کیا گیا،
مسلم پیس ایسوسی ایشن کی گیارہ رکنی کمیٹی نے بتایا کہ اس دوران پاکستان، سعودی عربیہ، قطر،مصر، ترکی،اردن اور انڈونیشیا  کے سفیروں سے ملاقات کرکے سرکاری سطح پر حکومت یونان کو مسلم امہ کے جذبات سے آگاہ کرنے کی کوشش کی ،پیس ایسوسی ایشن کے اراکین نے مسلم ممالک کے ان سفارت خانوںکے مثبت رد عمل اور بھرپور تعاون کو سراہتے ہوئے بتایا کہ یہ ان اجتماعی کوششوں کا ہی ردعمل ہے کہ یونان کلیسیا نے شرپسند عناصر کی اس گستاخانہ جسارت کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے یونان بھر کے کلیسیائوں کو مراسلہ روانہ کیا کہ وہ اپنے اجتماعات اور تقریبات میں اس شرمناک فعل کی سختی سے مذمت کریں  علاوہ ازیں دو ارکانِ پارلیمنٹ نے بھی ان نامعلوم ملزمان کے خلاف مقدمات اندراج کروا دئیے ہیں۔پیس ایسوسی ایشن نے اس سلسلہ میں ایتھنز پولیس کے چیف سے بھی ملاقات کر کے تمام صورتحال سے آگاہ کیا ہے۔
مسلم پیس ایسوسی ایشن کے اراکین نے پریس نمائندگان کو بتایا کے جب تک ملزمان کیفرکردار  کو نہیں پہنچ جاتے وہ چین سے نہیں بیٹھیں گے اور اگر حکومتِ یونان یا انتظامیہ نے ملزمان کو گرفتار کرنے میں غفلت برتی تو تمام مسلم کیمونٹیز کے اتفاق رائے سے ہزاروں افراد پہ مشتمل احتجاجی مظاہرہ کیا جائے گا اور اگر ضرورت پیش آئی تو پارلیمنٹ ہائوس کے باہر دھرنا بھی دیا جائے گا۔